چالیس جواہر پارے — Page 128
128 یہ علامت بتائی ہے کہ وہ مومنانہ حسن ظنی کی وجہ سے ایک دفعہ نقصان اٹھا جائے تو اٹھا جائے مگر ایک ہی شخص سے یا ایک ہی معاملہ میں دوبارہ نقصان نہیں اٹھاتا اور ہر تلخ تجربہ سے فائدہ اٹھا کر اپنی پوزیشن کو مضبوط سے مضبوط تر کرتا ہے اور اپنے لئے ترقی کے ایک دروازہ کے بعد دوسر ادروازہ کھولتا چلا جاتا ہے۔آنحضرت صلی یم کا یہ ارشاد زندگی کے ہر شعبہ سے ایک جیسا تعلق رکھتا ہے مثلاً اگر کسی مسلمان کو کوئی تاجر ایک دفعہ دھوکا دے تو یہ حدیث مسلمان کو ہو شیار کر رہی ہے کہ دیکھنا پھر دوسری دفعہ اس بد دیانت تاجر سے دھوکا نہ کھانا اور اگر کوئی پیشہ ور کسی مسلمان کے ساتھ خیانت کے ساتھ پیش آئے تو یہ حدیث اس مسلمان کو بھی متنبہ کر رہی ہے کہ ایسے خیانت پیشہ س سے دوسری بار زک نہ اٹھا اور اگر کوئی شخص دوست بن کر مسلمان کو اپنے فریب کا شکار بنائے تو یہ حدیث اس مسلمان کو بیدار کر رہی ہے کہ پھر کبھی ایسے فریب میں نہ آنا۔الغرض اس حدیث کا دائرہ بہت وسیع ہے بلکہ اگر کوئی شخص کسی چیز کو گناہ نہ خیال کرتے ہوئے اس کا مر تکب ہوتا ہے یا گناہ تو خیال کرتا ہے مگر اس کے نقصان کی اہمیت نہیں سمجھتا اور صرف تجربہ کے بعد اس کی مضرت کو محسوس کرتا ہے تو یہ حدیث اس کے لئے بھی ایک شمع ہدایت کا کام دے رہی ہے کہ اب پھر اس چیز کے قریب نہ جانا ورنہ تم ایک سوراخ سے دو دفعہ کاٹے جاؤ گے جو ایک مومن کی شان سے بعید ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ یہ لطیف حدیث ہر مسلمان کو ہوشیار کر رہی ہے کہ دنیا میں چوکس ہو کر رہو اور ہر ٹھو کر کو اپنے قدموں کی مضبوطی کا موجب بناؤ اور ہر لغزش کے بعد اس طرح