بیاضِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 52 of 432

بیاضِ نورالدّین — Page 52

: حصہ اول مجربات نور الدین دوائیں : ماء الجین نیاد تیار ہوئی ماشہ دودھ میں ملکہ یا دیں۔ماء الشیعر دیں مقویات معدہ دیں خون میں : - قصد کریں۔یجونکیں لگوائیں۔بلیسٹر لگائیں اگر مریض بوڑھا ہو تو و پدر از یک جوش دے کر بلائیں اگر سردی ہو تو دار چینی ،ماشہ اور شہد بنادیں اگر مریض امیر سو تو موتی ہو رتی کھلا دیں اگر چوٹ لگی ہے تو اصلاح کر و۔مومیائی ایک رہتی کھلاو اور نگاریتہ وار بلد کی گولی ایک رتی به شور با مرغ دو دیگر ، قبض و در گرو - روغن گل سر یہ لگاؤ مان (۱۲ اسباب کثرت جائے۔غم غضب تھے گدی پر یہ اگر انا۔دن کو سونا بیخوابی عشق - فقر بہت گرمی بہت سردی بہت تری بہت خشکی - ورم ، پوٹ، خراب ہوائیں ، بہت ٹھنڈے پانی سے نہانا ، میب، کشنیز پیاز تھوم۔باقلا - لوبیا کا کھانا کھنہ کہ استعمال شہراہ آپ سردی بھو کاٹ کا ہر خشخاش کثرت شراب کثرت شہر رات کو جاگنا۔سر کا درم - سر کو چوٹ لگنا۔بہت سونا یہ اس کے اسباب ہیں۔سوء مزاج کے اقسام۔جو شخص کسی چیز کو جلد یاد کر لیں اور یہ بھول جاوے وہ سرو مزاج صفرادی رکھتا ہے اور جو شخص پیر یاد کرے اور دیر سے بھلاوے اس کا مزاج دموی ہوتا ہے اور جو شخص دیر سے یاد کرے اور جلد بھلا یوں ہے اس کو بلغم کی زیادتی ہو گی اگر کوئی شخص علیحدہ بیٹھ کر سوچ نہ سکے تو اس کی نفرت متصدر خراب ہے اور اگر کوئی شخص اپنی خواب بھول جاوے تو اس کے مقدم دماغ میں خرابی ہے اور میں شخص کو پرانی باتیں بھول جاریں تو اس کا موخر کاتی خراب ہے او جس شخص کو جوڑ توڑ قرب نہ آتے ہوں اس کا وسط وماغ خراب ، اور جو شخص علم کی باتوں کو دلچسپی سے سن سکے اور اسی قسموں کی صف اتنی نہ کر سکے تو سردی کا باعث ہے۔علاق : اصل علاج تو ہے کہ ازالہ اسباب حسب مزاح کہا ہے کہ از چین کا تجربہ یہ ہے کہ کندر مان بھگو کر یا اس کا سفوف ماشتہ دو ماشہ سفوت استعمال کراتے تھے کندر باشہ اور نہ تخیل ماشہ مفید ہے امریہ بلغمی کی برسی میں کو تہ تنب کتے ہیں اس کا دو تولہ پانی مفید ہے اور رطوبت اور سردی میں جوارش جالینوس ۵ ماشه معجون فلاسفه - ماشه عرق بان ۵ نوله عرق کننده ۵ تولہ اور شک کا استعمال مفید ہے فائدا ، غذا کے ساتھ رانی کی چٹنی بڑی مفید ہے اور مشکی والوں میں مارالجین اور خشکی اور گرمی والے کو شربت نیلو فراور گلاب بہت ہی فائدہ مند ہے۔غذا : مرغ - بیر - تیتر کا گوشت استرخا۔فالج استرخاء :۔یہ مرض ہے جس سے کوئی عضو اپنی پیک شرکت یا دونوں کے لحاظ سے ناقص یا باطل ہو جاوے فالج، نصف بدن کے لیے جس اور بے حرکت ہو جانے کا نام ہے یہ عام اصطلاح یونانی اطباء کی ہے اور یہ لوگ خاص کیسی عضو کے لیے جس یا بے حرکت ہونے کو استرفا رکھتے ہیں۔اسباب استرخاء ، سری ، گرمی ، رطوبت یاخشکی سے یہ مرض پیدا مینا ہے یا کسی رسولی کے دباؤ بانڈی کے دباؤ سے اسباب فالج : پچوٹ یا کسی بیٹھے کا موٹا ہو جاتا۔یا کٹ جانا کسی خالہ کی زیادتی ہے یا کسی مقام پر سے گرنے سے مرگی کند، تولیج پر آنے تپ اختناق الرحیم و باغ یا حرام مغز کے درم یا ان کے پردوں کے درم۔بحران کثرت جماع را، افتیمون کو کہتے ہیں