بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 566 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 566

كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمٍ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ) البتہ جو شخص حج پر موجود ہو اس کے لئے یوم عرفہ کا روز رکھنا منع ہے۔(سنن ابن ماجه کتاب الصيام بَاب صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ) پس دونوں عیدوں کے دنوں اور ایام تشریق ( گیارہ، بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ) جو کہ اہل اسلام کے لئے عید اور کھانے پینے کے دن ہیں۔(سنن ترمذي کتاب الصوم بَاب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الصَّوْمِ في أَيَّامِ التَّشْرِيقِ) کے علاوہ انسان کسی بھی دن نفلی روزہ رکھ سکتا ہے۔تاہم صرف جمعہ کا دن نفلی روزہ کے لئے خاص کرنا منع ہے۔(سنن ترمذي كتاب الصوم بَاب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةٍ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَحْدَهُ) اور جو شخص حج پر ہو اور اس نے حج کے ساتھ عمرہ کا بھی فائدہ اٹھایا ہو اور اس میں قربانی کرنے کی طاقت نہ ہو تو وہ ایام تشریق کے تین روزے حج کے ایام میں رکھے گا۔(صحیح بخاري كتاب الصوم بَاب صِيَامِ أَيَّامِ التَّشْرِيْقِ) نفلی روزوں کے بارہ میں حضور ﷺ کی ایک تفصیلی ہدایت کا ذکر حدیث میں یوں ملتا ہے۔حضرت ابو قتادہ انصاری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ الم سے صوم دہر ( یعنی ساری عمر کے روزہ) کے بارہ میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ایسے شخص نے نہ روزہ رکھا اور نہ افطار کیا( گویا ایسے روزہ کو آپ نے ناپسند فرمایا)۔راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ سے دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن افطار کرنے کے بارہ میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کون اس کی طاقت رکھتا ہے ؟ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ سے ایک دن روزہ رکھنے اور دو دن افطار کرنے کے بارہ میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی طاقت عطا فرمائے۔پھر آپ سے ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن افطار کرنے کے بارہ میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ روزے میرے بھائی حضرت داؤد علیہ السلام کے ہیں۔راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ سے سوموار کے دن کے روزہ کے بارہ میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ وہ دن ہے جس میں مجھے پیدا کیا گیا، اسی دن مجھے مبعوث کیا گیا اور اسی دن مجھ پر (قرآن) نازل کیا گیا۔راوی کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ہر مہینہ میں تین روزے رکھنا اور ایک رمضان کے بعد دوسرے رمضان کے روزے رکھنا ساری عمر کے روزوں کے برابر ہے۔راوی کہتے ہیں آپ سے عرفہ کے دن کے روزہ کے بارہ میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا گزرے ہوئے سال اور آنے والے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔راوی کہتے ہیں کہ آپ سے عاشورہ کے دن کے روزہ کے بارہ میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ روزہ رکھنا گزرے ہوئے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن 566