بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 452 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 452

قول صحابی رسول الله لم سوال : ایک دوست نے اصول فقہ کے قانون ” قول صحابی رسول اہم شرعی حکم کے استنباط کے لئے دلیل ہے“ کے بارہ میں حضور انور سے رہنمائی کی درخواست کی۔جس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 20 جولائی 2020ء میں درج ذیل ارشاد فرمایا: جواب: اس امر میں کوئی شک نہیں کہ صحابہ حضور ام کے تربیت یافتہ تھے ، انہوں نے حضور الم سے علم و عرفان حاصل کیا۔اور وہ مقاصد شریعت کو زیادہ اچھی طرح جانتے تھے۔لیکن اس کے باوجو د اصول فقہ والوں کا یہ قانون ایک hard and fast rule کے طور پر نہیں مانا جاسکتا۔کیونکہ اقوال صحابہ بھی احادیث ہی کی طرح آنحضور لم اور صحابہ کا دور گزرنے کے بعد جمع کئے گئے۔صحابہ رسول الم کے اقوال کا درجہ تو یقیناً احادیث نبوی لیم کے بعد آتا ہے۔جبکہ بہت سی احادیث پر علماء و فقہاء نے جرح کر کے انہیں ضعیف اور موضوع قرار دیا ہے۔امام المحدثین حضرت امام بخاری کو چھ لاکھ کے قریب احادیث یاد تھیں جن میں سے انہوں نے سولہ سال کی محنت شاقہ کے بعد صرف تین ہزار کے قریب احادیث کو اپنی صحیح میں شامل فرمایا۔دوسری صدی ہجری کے مؤرخ واقدی کی بیان کردہ متعدد احادیث ایسی ہیں جن کو علماء نے قابل استناد قرار نہیں دیا۔پس اصل بات وہی ہے جو حضور الم کے غلام صادق اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے مبعوث ہونے والے حکم و عدل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی ہے کہ : کون ایسا مومن ہے جو قرآن شریف کو حدیثوں کے لئے حکم مقرر نہ کرے؟ اور جب کہ وہ خود فرماتا ہے کہ یہ کلام حکم ہے اور قول فصل ہے اور حق اور باطل کی شناخت کے لئے فرقان ہے اور میزان ہے تو کیا یہ ایمانداری ہو گی کہ ہم خدا تعالیٰ کے ایسے فرمودہ پر ایمان نہ لاویں ؟ اور 452