بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 443 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 443

سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ قرآن کریم کے 30 پارے ہونے میں کیا خدائی حکمت ہو سکتی ہے؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 10 جنوری 2021ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب ارشاد فرمایا: جواب: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو آیات اور سورتوں کی شکل میں نازل فرمایا اور آنحضور الم نے خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والی رہنمائی سے اس کی موجودہ ترتیب کو قائم فرمایا۔جہاں تک قرآن کریم کو منازل، پاروں اور رکوعات میں تقسیم کرنے کا معاملہ ہے تو یہ بعد میں لوگوں نے قرآن کریم کو پڑھنے کی سہولت کے پیش نظر مختلف وقتوں میں ایسا کیا۔اسی لئے قرآن کریم کے قدیم نسخہ جات میں ایسی کوئی تقسیم موجود نہیں ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ بعض ایسے صحابہ جو اپنی گھریلو ذمہ داریاں ادا کرنے کی بجائے صرف نفلی عبادات میں ہی مشغول رہتے تھے ، ان کے بارہ میں اطلاع ملنے پر حضور ام نے انہیں جو نصائح فرمائیں ان میں سارے قرآن کریم کی تلاوت کے لئے بھی حضور ﷺ نے دنوں کی حد بندی فرمائی تھی۔چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص کے بارہ میں آتا ہے کہ حضور ام نے انہیں فرمایا کہ پورے مہینہ میں قرآن مجید ختم کیا کرو۔انہوں نے عرض کی یارسول اللہ ! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں تو آپ نے فرمایا ہیں دنوں میں پڑھ لیا کرو۔انہوں نے عرض کیا میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ دس دنوں میں ختم کر لیا کرو۔انہوں نے عرض کیا میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں تو آپ نے فرمایا پھر سات دنوں میں مکمل کر لیا کرو اور اس سے زیادہ اپنے آپ کو مشقت میں مت ڈالو کیونکہ تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے جسم کا بھی تجھ پر حق ہے۔(صحیح مسلم كتاب الصيام) بعض کا خیال ہے کہ حضور الم کے اس ارشاد کی روشنی میں بعد میں لوگوں نے اپنی سہولت کے لئے قرآن کریم کو تیس پاروں اور سات منازل میں تقسیم کیا تا کہ زیادہ سے زیادہ ایک 443