بنیادی مسائل کے جوابات — Page 423
غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنا سوال: ایک دوست نے حديث الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ وَاجِبَةٌ خَلْفَ كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَ إِنْ عَمِلَ الكَبَائِرَ (سنن ابي داؤد کتاب الصلوة) کی روشنی میں دریافت کیا ہے کہ افراد جماعت کے لئے کسی غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنا کیوں درست نہیں ؟ اس سوال کا جواب عطاء فرماتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 05 اکتوبر 2018ء میں فرمایا: جواب : یہ مکمل حدیث سنن ابي داؤد کتاب الجھاد میں اس طرح درج ہے۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِهَادُ وَاجِبْ عَلَيْكُمْ مَعَ كُلِّ أَمِيْرٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَالصَّلَاةُ وَاجِبَةٌ عَلَيْكُمْ خَلْفَ كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَ إِنْ عَمِلَ الكَبَائِرَ وَالصَّلَاةُ وَاجِبَةٌ عَلَي كُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّا كَانَ أَوْ فَاجِرًا وَ إِنْ عَمِلَ الْكَبَائِرَ گویا اس میں صرف نماز پڑھنے کے بارہ میں ارشاد نہیں فرمایا بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ ہر امیر کی قیادت میں جہاد کرو اور ہر مسلمان کی نماز جنازہ ادا کرو۔لیکن آنحضور الم کی اپنی سنت اس سے مختلف ہے کیونکہ حضور لم نے نہ مقروض کی، نہ خیانت کرنے والے کی اور نہ ہی خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ خود پڑھی۔اسی لئے علمائے حدیث نے اس حدیث کی صحت پر کلام کیا ہے اور اس روایت کی سند پر کئی اعتراضات اٹھائے ہیں۔علاوہ ازیں کتب احادیث میں حضور الم کا یہ ارشاد بھی موجود ہے کہ لَا يَؤُمَّنكُمْ ذُو جُزْأَةٍ في دين“ یعنی کوئی ایسا شخص جو اپنے دین میں بے باک ہو گیا ہو یا دینی احکامات کا خیال نہ رکھتا ہو وہ تمہاری امامت ہر گز نہ کروائے۔امامت کے حوالہ سے سب سے بڑھ کر وہ حدیث ہے جس میں آنحضرت ام نے آنے 423