بنیادی مسائل کے جوابات — Page 348
سوال: اسی ملاقات میں ایک ممبر لجنہ نے حضور سے دریافت کیا کہ شادی کے معاملہ میں دین کو ترجیح دینے کی بات کی گئی ہے۔مگر آجکل لوگ خوبصورتی اور دوسری خصوصیات کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں جس وجہ سے جماعت کی کافی نیک اور دینی لڑکیوں کی شادی نہیں ہو رہی، اس بارہ میں حضور سے رہنمائی کی درخواست ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: جواب: دیکھیں ہم نے تو کوشش کرنی ہے اور میں تو کوشش کرتا رہتا ہوں۔لڑکوں کو بھی سمجھاتا رہتا ہوں۔یہ بالکل صحیح بات ہے کہ آنحضرت لال نے یہی فرمایا ہے کہ تم لوگ جو کسی سے شادی کرتے ہو تو اس کی خصوصیات کی بنا پر کرتے ہو یا اس کا خاندان دیکھتے ہو یا اس کی شکل دیکھتے ہو یا اس کی دولت دیکھتے ہو۔لیکن ایک مومن جو ہے اس کو ہمیشہ عورت کا دین دیکھنا چاہیئے۔اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر لڑکوں میں دین نہیں ہو گا تو وہ لڑکیوں کا دین کس طرح دیکھیں گے ؟ تو جو جماعتی نظام ہے اور خدام الاحمدیہ ہے، میں ان کو بھی کہتا ہوں کہ لڑکوں میں دینداری پیدا کرو۔جب لڑکوں میں دینداری پیدا ہو گی تو پھر وہ یقیناً ایسی لڑکیوں سے شادی کرنے کی کوشش کریں گے جو دیندار ہوں۔تو یہ تربیت کا معاملہ ہے اور اس طرف میں جماعت کو بھی توجہ دلاتا رہتا ہوں اور خدام الاحمدیہ کو بھی توجہ دلاتا رہتا ہوں اور انصار اللہ کو بھی توجہ دلاتا رہتا ہوں۔لیکن لجنہ کا کام یہی ہے کہ وہ خود بھی کوشش کریں، جو بڑی عمر کی لجنہ ممبرات ہیں ، مائیں ہیں وہ بھی اپنے بچوں اور لڑکوں کی تربیت کریں، ان کو توجہ دلائیں کہ تم نے نیک اور دیندار لڑکی سے شادی کرنی ہے۔اگر مائیں اپنا کردار ادا کریں گی تو یقینا ان کے لڑکے بھی دیندار لڑکیوں سے شادی کریں گے۔مسئلہ یہ ہے کہ جب لڑکے کی شادی کا معاملہ آتا ہے تو مائیں کہتی ہیں کہ ہمارا بچہ جو ہے ہم اس کی شادی اپنی مرضی سے کریں گے۔اور جب لڑکیوں کی عمر گزر رہی ہوتی ہے اور لڑکیوں کے رشتے نہیں ملتے، جب وہ بڑی ہو جاتی ہیں، تو پھر مائیں اور باپ کہتے ہیں کہ جماعت ان کی شادی کروادے۔حالانکہ دونوں کو جماعت کے سپرد کرنا چاہیئے اور کہنا چاہیئے کہ دیندار لڑکے اور دیندار لڑکیاں آپس میں مل کر شادیاں کریں تا کہ جماعت کے اندر ہی لڑکے اور لڑکیاں رہیں اور آئندہ بھی نیک اور دیندار نسل پیدا ہوتی رہے۔تو یہ تو کوشش 348