بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 296 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 296

کے معنے سوچنے اور تدبر کے ہیں۔66 ( تفسیر کبیر جلد اوّل صفحہ 153) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: دل میں ایمان کے لکھنے سے یہ مطلب ہے کہ ایمان فطرتی اور طبعی ارادوں میں داخل ہو گیا اور بجز و طبیعت بن گیا اور کوئی تکلف اور تصنع در میان نہ رہا۔اور یہ مر تبہ کہ ایمان دل کے رگ و ریشہ میں داخل ہو جائے اُس وقت انسان کو ملتا ہے کہ جب انسان روح القدس سے مؤید ہو کر ایک نئی زندگی پاوے اور جس طرح جان ہر وقت جسم کی محافظت کے لئے جسم کے اندر رہتی ہے اور روشنی اُس پر ڈالتی رہتی ہے اسی طرح اس نئی زندگی کی روح القدس بھی اندر آباد ہو جائے اور دل پر ہر وقت اور ہر لحظہ اپنی روشنی ڈالتی رہے اور جیسے جسم جان کے ساتھ ہر وقت زندہ ہے دل اور تمام روحانی قوی روح القدس کے ساتھ زندہ ہوں۔اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے بعد بیان کرنے اس بات کے کہ ہم نے اُن کے دلوں میں ایمان کو لکھ دیا یہ بھی بیان فرمایا کہ روح القدس سے ہم نے ان کو تائید دی کیونکہ جبکہ ایمان دلوں میں لکھا گیا اور فطرتی حروف میں داخل ہو گیا تو ایک نئی پیدائش انسان کو حاصل ہو گئی اور یہ نئی پیدائش بجز تائید روح القدس کے ہر گز نہیں مل سکتی۔رُوح القدس کا نام اسی لئے روح القدس ہے کہ اُس کے داخل ہونے سے ایک پاک روح انسان کو مل جاتی ہے۔قرآن کریم روحانی حیات کے ذکر سے بھرا پڑا ہے اور جابجا کامل مومنوں کا نام احیاء یعنی زندے اور کفار کا نام اموات یعنی مردے رکھتا ہے۔یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ کامل مومنوں کو روح القدس کے دخول سے ایک جان مل جاتی ہے اور کفار گوجسمانی طور پر حیات رکھتے ہیں مگر اُس حیات سے بے نصیب ہیں جو دل اور دماغ کو ایمانی زندگی بخشتی ہے۔“ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 100 تا102) 296