بنیادی مسائل کے جوابات — Page 264
سوال: عورتوں کے ایام حیض میں مسجد میں آکر بیٹھنے نیز ان ایام میں تلاوت قرآن کریم کرنے کے بارہ میں ایک خاتون کی ایک تجویز پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 13 مارچ 2019ء میں درج ذیل ارشادات فرمائے۔حضور انور نے فرمایا: جواب: مذکورہ بالا دونوں امور کے بارہ میں علماء و فقہاء کی آراء مختلف رہی ہیں اور بزرگان دین نے بھی اپنی قرآن فہمی اور حدیث نہی کے مطابق اس بارہ میں مختلف جوابات دیئے ہیں۔اسی طرح جماعتی لٹریچر میں بھی خلفائے احمدیت کے حوالہ سے نیز جماعتی علماء کی طرف سے مختلف جوابات موجود ہیں۔قرآن کریم، احادیث نبویہ الم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں، خواتین کے ایام حیض میں قرآن کریم پڑھنے کے متعلق میرا موقف ہے کہ ایام حیض میں عورت کو قرآن کریم کا جو حصہ زبانی یاد ہو ، وہ اسے ایام حیض میں ذکر و اذکار کے طور پر دل میں دہراسکتی ہے۔نیز بوقت ضرورت کسی صاف کپڑے میں قرآن کریم کو پکڑ بھی سکتی ہے اور کسی کو حوالہ وغیرہ بتانے کے لئے یا بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کے لئے قرآن کریم کا کوئی حصّہ پڑھ بھی سکتی ہے لیکن باقاعدہ تلاوت نہیں کر سکتی۔اسی طرح ان ایام میں عورت کو کمپیوٹر وغیرہ پر جس میں اسے بظاہر قرآن کریم پکڑنا نہیں پڑتا با قاعدہ تلاوت کی تو اجازت نہیں لیکن کسی ضرورت مثلاً حوالہ تلاش کرنے کے لئے یا کسی کو کوئی حوالہ دکھانے کے لئے کمپیوٹر وغیرہ پر قرآن کریم سے استفادہ کر سکتی ہے۔اس میں کوئی حرج نہیں۔ان ایام میں عورت مسجد سے کوئی چیز لانے کے لئے یا مسجد میں کوئی چیز رکھنے کے لئے تو مسجد میں جاسکتی ہے لیکن وہاں جا کر بیٹھ نہیں سکتی۔اگر اس کی اجازت ہوتی تو حضور ام عید میں شامل ہونے والی ایسی خواتین کے لئے کیوں یہ ہدایت فرماتے کہ وہ نماز کی جگہ سے الگ رہیں۔پس اس حالت میں عورتوں کو مسجد میں بیٹھنے کی اجازت نہیں۔اگر کوئی خاتون اس حالت میں مسجد میں آتی ہے یا کوئی بچی ایسی حالت میں اپنی والدہ کے ساتھ مسجد آئی ہے یا اچانک کسی کی یہ حالت شروع ہو گئی ہے تو ان تمام صورتوں میں ایسی خواتین اور 264