بنیادی مسائل کے جوابات — Page 212
چا کا بیٹا سوال: ایک دوست نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ حضور لم نے حضرت فاطمہ سے حضرت علیؓ کے متعلق دریافت فرمایا کہ تمہارے چا کا بیٹا کہاں ہے۔اسی طرح حضور ﷺ نے حضرت عباس اور حضرت ابو طالب کے لئے بھی چا کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور حضرت علی نے حضرت خدیجہ کے لئے بچی کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔اس لفظ کی کچھ وضاحت فرما دیں۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 13 دسمبر 2020ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: ہر معاشرہ کے کچھ رسم و رواج اور روز مرہ زندگی میں استعمال ہونے والے محاورے ہوتے ہیں، جو اسی معاشرہ کو سامنے رکھ کر سمجھے جا سکتے ہیں۔چنانچہ بعض خاندانوں میں والد کا کسی شخص سے جو ر شتہ ہوتا ہے خاندانی رسم و رواج یا محاورہ کے تحت وہی رشتہ اولاد کے لئے بھی استعمال ہو جاتا ہے۔حضرت علی " چونکہ حضور اہل علم کے چچا کے بیٹے تھے ، لہذا اسی معاشرتی رواج کے تحت حضور اسلام نے اپنی بیٹی سے دریافت کیا کہ تمہارے چچا کا بیٹا کہاں ہے۔پھر عرب میں يَا ابْنَ عَمِّ اور يَا ابْنَ أَخِي یعنی اے میرے چچا کے بیٹے اور اے میرے بھتیجے وغیرہ الفاظ کے استعمال کا عام عام رواج تھا اور اب تک ہے۔چنانچہ بڑی عمر کا شخص اپنے سے چھوٹی عمر کے شخص کو مخاطب کرنے کے لئے يا ابن أخي یعنی اے میرے بھتیجے کے الفاظ استعمال کرتا ہے اور اسی طرح بیوی اپنے خاوند کا نام لینے کی بجائے یا ابن عم یعنی اے میرے چچا کے بیٹے کے الفاظ استعمال کرتی ہے۔جہاں تک حضرت علی کے حضرت خدیجہ کے لئے بچی کے الفاظ استعمال کرنے کا تعلق ہے تو عربی میں پھوپھی اور چی دونوں کے لئے عمتي کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔لگتا ہے آپ نے کسی جگہ عمتي کا لفظ پڑھ کر اس کا ترجمہ بچی سمجھ لیا ہے جبکہ حضرت خدیجہ اور حضرت علی کے حوالہ سے اس لفظ کا ترجمہ پھوپھی بنے گا۔کیونکہ حضرت خدیجہ اور حضرت ابو طالب کا نسب پانچویں رض 212