بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 197 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 197

جنگ جمل سوال: ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے جنگ جمل کے وقوع پذیر ہونے کی وجہ اور اس کی حقیقت دریافت کی۔نیز لکھا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا پر بے رحمی سے ہاتھ اٹھایا تھا، جس کی وجہ سے حضرت فاطمہ کا حمل ضائع ہو گیا۔ان باتوں میں کس حد تک صداقت ہے؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 21 نومبر 2019ء میں اس کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: ، جواب: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر لگایا جانے والا الزام بالکل لغو ، ناحق اور واقعات اور حقائق کے برخلاف ہے۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، حضور لیم کی وفات کے بعد چند ماہ تک زندہ رہیں اور یہ عرصہ بھی زیادہ تر ان کی بیماری کی حالت میں ہی گزرا۔پھر حضرت فاطمہ تو حضور ا کی حقیقی اولاد تھیں۔ان کے ساتھ حضرت عمر کا ایسا سفاکانہ رویہ کیسے ہو سکتا ہے؟ جبکہ حضرت عمر حضور ای ایم سے تعلق رکھنے والے غیر لوگوں سے بھی بے انتہا محبت کرتے تھے۔چنانچہ ایک موقعہ پر جب حضرت عمرؓ کے بیٹے حضرت عبد اللہ نے آپ سے سوال کیا کہ آپ نے مجھے اُسامہ بن زید سے کم وظیفہ کیوں دیا ہے؟ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: اُسامہ رسول اللہ لی تم کو تم سے زیادہ پیارا تھا اور اُس کا باپ (یعنی حضرت زید بن حارثہ ) رسول اللہ تم کو تمہارے باپ (یعنی حضرت عمر سے زیادہ پیارا تھا، اس لئے میں نے اسے تم سے زیادہ وظیفہ دیا ہے۔پس وہ شخص جو حضور ﷺ کے ایک غلام کے بیٹے کو اپنے حقیقی بیٹے پر اس قدر ترجیح دیتا ہو، اس ه پر یہ الزام لگانا کہ اس نے حضور الم کی حقیقی اولاد کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا، کسی طرح بھی درست نہیں۔اور یہ معاندین حضرت عمرؓ کی طرف سے حضرت عمرؓ پر سراسر جھوٹا الزام ہے۔جہاں تک جنگ جمل کی حقیقت ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ جنگ دو مسلمان گروہوں حضرت علی اور حضرت عائشہ کے لشکروں کے درمیان ہوئی اور ایسی خونریز جنگ ہوئی کہ 197