بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 195 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 195

جنت یا جہنم کا فیصلہ سوال: ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے دریافت کیا کہ کیا کسی کی موت کا انجام اس کے مذہبی عقائد پر منحصر ہے؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 20 فروری 2020ء میں اس مسئلہ کے بارہ میں درج ذیل ارشاد فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: اللہ تعالیٰ انبیاء کو اس لئے مبعوث کرتا ہے کہ وہ لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور لوگ اس دنیا کی عارضی زندگی اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق گزار کر اُخروی زندگی کے دائمی انعامات کے وارث بنیں اور شیطانی راستوں کو ترک کر کے اُخروی عذاب سے بچیں۔لہذا اللہ تعالیٰ اور اس کے نبیوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔قرآن کریم نے اس مضمون کو مختلف جگہوں پر بیان فرمایا ہے۔لیکن کسی کے جنت یا دوزخ میں جانے کے فیصلہ کا اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔کیونکہ وہ ہر چیز کا مالک ہے۔اور وہ فرماتا ہے کہ میں شرک کے سوا تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہوں۔پس کسی عام انسان کو اختیار نہیں کہ وہ دوسروں کے جنت یا دوزخ میں جانے کا فتویٰ دے۔البتہ خدا کے نبی اور فرستادے چونکہ خدا سے غیب کا علم پاتے ہیں اس لئے جب کوئی نبی یا فرستادہ کسی کے بارہ میں کوئی بات کہتا ہے تو وہ بات دراصل خدا تعالیٰ کے ہی علم پر مبنی اور عین صداقت ہوتی ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ حضور ام کے پاس سے ایک جنازہ گزرا لوگوں نے مرنے والے کا ذکر خیر کیا تو آپ نے فرمایا اس کے لئے جنت واجب ہو گئی۔پھر ایک دوسرا جنازہ گزرا تو لوگوں نے مرنے والے کی برائیوں کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا اس کے لئے جہنم واجب ہو گئی۔اور پھر فرمایا کہ مومن لوگ زمین پر اللہ تعالیٰ کے گواہ ہیں۔پھر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔وہ کسی کی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کا بھی اجر ضرور اسے دیتا ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی نے حضور الم کی خدمت میں عرض کی کہ میں نے کفر کی حالت میں محض خدا تعالیٰ کے خوش کرنے کے لئے بہت کچھ مال مساکین کو دیا تھا۔کیا اس کا ثواب بھی مجھے ملے گا؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہی صدقات ہیں جو تجھے اسلام کی طرف کھینچ لائے ہیں۔195