بنیادی مسائل کے جوابات — Page 156
جماعتی نظام سوال: Virtual ملاقات مؤرخہ 15 نومبر 2020ء میں ایک مربی صاحب نے حضور کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ بعض دوسری قومیں جو جماعت میں شامل ہو رہی ہیں ، وہ جماعت کے علم الکلام سے تو بہت متاثر ہوتی ہیں لیکن جماعتی نظام اور خصوصاً مالی قربانی میں وہ پوری طرح شامل نہیں ہو پاتیں اور مقامی جماعت کے ساتھ بھی ان کے مستحکم رابطے نہیں ہو پاتے ، اس بارہ میں حضور انور کی خدمت میں رہنمائی کی درخواست ہے؟ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: جواب: بات یہ ہے کہ جماعتی نظام کو بھی ان کے لئے اتنا مشکل نہ کریں۔اسی لئے حضرت خلیفة المسیح الرابع نے شروع میں یہی کہا تھا، اور ان سے پہلے بھی خلفاء یہی کہتے رہے اور میں بھی یہی کہتا ہوں کہ جو نئے آنے والے نو مبائعین ہیں وہ جب آتے ہیں اور آپ کے ساتھ شامل ہوتے ہیں تو ان کو پہلے تین سال کے عرصہ میں سمجھائیں کہ سسٹم کیا ہے۔نہ کہ ان سے اس طرح سلوک کریں کہ وہ کوئی ولی اللہ ہیں یا صحابہ کی اولاد میں سے ہیں یا پیدائشی احمدی ہیں۔پیدائشی احمدی تو بلکہ کم جانتے ہیں وہ جو نئے آنے والے ہیں وہ دینی علم بھی آپ سے زیادہ جانتے ہیں۔اکثر میں نے دیکھا ہے جو صحیح طرح سوچ سمجھ کے جماعت میں شامل ہوتا ہے وہ نمازوں کی طرف بھی توجہ دینے والا زیادہ ہوتا ہے ، وہ استغفار کرنے والا بھی ہوتا ہے ، وہ تہجد پڑھنے والا بھی ہوتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کو سمجھنے کی کوشش بھی کرنے والا ہو تا ہے۔تو بہر حال ہمارا یہ کام نہیں کہ جو بھی شامل ہوتا ہے اس کو پہلے دن سے ہی ( تمام چیزوں کا پابند) کریں۔اسی لئے تین سال کے لئے ان کے اوپر چندہ کا نظام لاگو نہیں کیا جاتا ہے۔تین سال کا عرصہ ان کی ٹریننگ کا ہوتا ہے تاکہ اس میں تربیت ہو جائے۔ان کو بتائیں کہ یہ جماعت کا نظام ہے لیکن تم ابھی نئے ہو تم اس کو پہلے غور سے دیکھو ، سمجھو۔لیکن پھر مثلا مالی قربانی ہے ، اللہ تعالیٰ نے کیونکہ مالی قربانی کی طرف توجہ دلائی ہے تو تم وقف جدید اور تحریک جدید کا چندہ جو ہے اس میں جتنا تمہاری حیثیت ہے تم دے سکتے ہو چاہے سال کا ایک یورو(Euro) دو تاکہ تمہیں احساس پیدا ہو کہ جماعت سے تمہاری کوئی Attachment ہے۔اسی طرح نمازوں کے 156