بنیادی مسائل کے جوابات — Page 139
تجد سوال: ایک مرتبی صاحب نے عرض کیا کہ حضور نے شروع میں نماز تہجد کا ذکر فرمایا ہے۔سردیوں میں تو انسان آسانی سے تہجد کے لئے اٹھ سکتا ہے لیکن مستقل طور پر اور ان ممالک میں گرمیوں میں اس کی عادت ڈالنے کا بہترین ذریعہ کیا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس سوال کے جواب میں فرمایا: جواب: یہ تو Depend کرتا ہے کہ کتنا اللہ تعالیٰ سے آپ کا تعلق ہے۔کتنی اللہ سے محبت ہے۔باقی کاموں کے لئے وقت نکال لیتے ہیں ناں ؟ اگر جرمنی میں رہتے ہوئے رات کو دس بجے عشاء کی نماز ہوتی ہے یا ساڑھے دس بجے ہوتی ہے اور صبح ڈھائی بجے، پونے تین بجے یا تین بجے ہوتی ہے۔( یہاں بلکہ یو کے میں اس سے جلدی سحری ہو جاتی ہے۔وہاں پھر ایک گھنٹہ لیٹ سحری ہوتی ہے۔آدھا پونا گھنٹے کا فرق ہوتا ہے۔تو دو گھنٹے سوئیں، ڈیڑھ گھنٹہ سوئیں۔پھر اٹھ کے نماز پڑھیں۔اس کے بعد نماز فجر کے بعد پھر ایک دو گھنٹے سو جائیں۔یہ تو اپنا پروگرام خود بنانا پڑتا ہے۔اگر کسی کام کے کرنے کی دل میں تڑپ ہو تو سب رستے نکل آتے ہیں۔جب جامعہ میں آپ کے امتحان ہو رہے ہوتے تھے اور پڑھنے کا شوق ہوتا تھا تو رات کو اٹھ کے پڑھتے تھے ناں؟ یا کوئی فکر پیدا ہوئی ہو تو تہجد پڑھتے ہیں ناں؟ یہ تو سوچ کی بات ہے۔اگر آپ سوچ کو اس طرح ڈھال لیں گے کہ میں نے یہ کام کرنا ہے تو اللہ تعالیٰ مدد کرتا ہے۔تو لوگ تو رات کو گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ سوتے ہیں۔اس کے بعد اٹھ کے تہجد پڑھ لیتے ہیں۔پھر صبح نماز فجر کے بعد جب باقی وقت ہوا سو گئے۔یہ تو وقت نکالنا پڑتا ہے۔اس کے بعد سارا دن بھی تو آپ کو مل جاتا ہے۔دو پہر کو نیند پوری کرنے کے لئے ایک گھنٹہ سولیا کریں۔یہ تو کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے۔جوانی میں ہی عبادت ہوتی ہے جو ہوتی ہے۔آپ تو نوجوان لوگ ہیں آپ لوگوں کا ہی وقت ہے۔یہی وقت ہے اس وقت سے فائدہ اٹھا لیں۔اور عبادات کا جتنا حق ادا کر سکتے ہیں کرنے کی کوشش کریں۔در جوانی تو به کردن شیوه پیغمبری وقت پیری گرگ ظالم می شود پرہیز گار (قسط نمبر 20 ، الفضل انٹر نیشنل 10 ستمبر 2021ء صفحہ 11) 139