بنیادی مسائل کے جوابات — Page 110
سوال: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ نیشنل مجلس عاملہ لجنہ اماء اللہ آسٹریلیا کی Virtual ملاقات مؤرخہ 19 دسمبر 2020ء میں ناصرات کی تربیت کے بارہ میں حضور انور نے فرمایا: جواب: شروع میں ہی بچیوں کو بتائیں کہ تمہارا لباس حیادار ہونا چاہیے۔جب وہ بڑی ہوں اور لجنہ میں شامل ہوں تو پھر ان کو پتہ ہونا چاہیئے کہ حیا دار لباس کے ساتھ حجاب کا حکم بھی اللہ تعالیٰ کا ہی ہے، قرآن کریم میں ہی ہے۔تو جو بچپن سے ان کو ٹریننگ دیں گی تو تبھی وہ لجنہ میں آکے اور معیار کبیر کی ناصرات بن کے حیادار لباس پہنیں گی۔ان کو بچپن میں بتائیں کہ ابھی عمر چھوٹی ہے لیکن آنحضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ حیا ایمان کا حصہ ہے اس لئے تم لوگ حیا دار لباس پہنو۔پھر جب بڑی ہوں تو حیا دار لباس کے ساتھ حجاب بھی ہو۔جب حجاب ہو تا ہے تو حجاب خود اثر ڈال رہا ہوتا ہے بہت ساری برائیوں سے بچانے کے لئے) اور MixingUp سے ، مردوں کے ساتھ باتیں کرنے سے اور ان کے ساتھ دوستیاں لگانے سے۔جو لڑکیاں یونیورسٹی اور کالج میں جاتی ہیں ان کو خود ہی احساس پیدا ہو رہا ہوتا ہے کہ ہمارا حجاب جو ہے اس کا ہم نے پاس کرنا ہے۔تو اگر بچپن سے آپ تربیت کر دیں ، ناصرات کی عمر میں تو لجنہ کے سارے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔لجنہ کو کبھی کوئی شکایت نہیں ہوتی۔اس لئے بہت بڑا کام ہے جو ناصرات کا ہے۔تو ابھی سے تربیت کر لیں تو بڑی اچھی بات ہے۔کیونکہ جب کالج اور یونیورسٹی میں یہ لڑکیاں جائیں گی تب ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ ہم کیا ہیں؟ پھر ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ احمدیت کیا چیز ہے؟ بہت ساری بچیوں کو یہی نہیں پتہ ، قرآن بھی پڑھا دیتی ہیں، حدیث بھی پڑھا دیتی ہیں لیکن ان کو یہی نہیں پتہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیوں آئے ؟ جب ہمارے پاس قرآن بھی ہے، ہمارے پاس حدیث بھی ہے، ہمارے پاس آخری رسول بھی ہے ، تو مسیح موعود کی ضرورت کیا ہے ؟ یہ باتیں بچپن سے ہی پتہ ہونی چاہئیں۔حضرت مسیح موعود آئے تو کیوں آئے اور کس لئے آئے؟ اس لئے آئے کہ یہ بھی آنحضور ﷺ کی ہی پیشگوئی تھی۔اس کو پورا کرنے آئے۔تو یہ چیزیں جو ہیں یہ بچپن سے ذہنوں میں ہونی چاہئیں۔اور جب یہ بنیادی چیزیں ہوں گی تو تبھی وہ آگے بڑھیں گی۔بڑے بڑے مسائل تو لوگ سیکھ ہی لیتے ہیں۔بنیادی چیزیں ان کو سکھا دیں، یہ پتہ ہو کہ میرا ایمان کیا ہے، میں کیوں احمدی ہوں، میری کیا ذمہ داریاں ہیں؟ اور اس کے بعد پھر دیکھیں 110