بنیادی مسائل کے جوابات — Page 108
رویہ اختیار کرو۔بچہ کو سمجھاؤ اللہ تعالیٰ کی ذات پہ ایمان دلواؤ، اسلام کی سچائی کا ثبوت دو۔اس زمانہ میں مسیح موعود کو دین کی سچائی قائم کرنے کے لئے بھیجا ہے اس کی باتیں بتاؤ۔چھوٹی چھوٹی کہانیاں سنا کر ، صحابہ کے چھوٹے چھوٹے واقعات سنا کر ، نبیوں کے واقعات سنا کر، اللہ تعالیٰ کے جو لوگوں پر فضل ہوئے ہیں ان کی کہانیاں سنا کے ، جو تم پہ فضل ہوئے ہیں اس کی کہانی سنا کے Interest پیدا کرو۔تو اس طرح ایک محبت پیدا کی جاتی ہے۔نیک نیتی سے، توجہ سے ماں باپ بچوں کو سمجھاتے رہیں، دین کی طرف لاتے رہیں تو پھر دین سے وہ Attach ہو جائیں گے تو پھر خدا تعالی کی طرف رجحان بھی ہو گا، پھر نمازوں کی طرف توجہ بھی ہو گی۔لیکن پنجابیوں کی طرح یہ کہہ دینا کہ بچہ کو چھوڑ دو، بڑا ہو گا تو آپ ہی ٹھیک ہو جائے گا۔یہ کام نہیں چلے گا۔اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں سبق دیا کہ پہلے دن سے تربیت کرو۔اس لئے وڈا ہو کے ٹھیک ہو جائے گا “ والی بات کوئی نہیں ہے۔بچہ کی تربیت ساتھ ساتھ اس کی عمر کے لحاظ سے کرو اور اپنے نمونے دکھاؤ۔(قسط نمبر 12، الفضل انٹر نیشنل 2 اپریل 2021ء صفحہ 11) 108