بنیادی مسائل کے جوابات — Page 57
امانتاً دفن کئے گئے شخص کی دوبارہ نماز جنازہ کیوں پڑھی جاتی ہے سوال: امریکہ سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار بھجوایا کہ امانت دفن کئے گئے شخص کی میت کو جب بہشتی مقبرہ منتقل کیا جاتا ہے تو اس کی دوبارہ نماز جنازہ کیوں پڑھی جاتی ہے، جبکہ اسے فوت ہوئے کئی سال کا عرصہ گزر چکا ہوتا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 12 اپریل 2022ء میں اس سوال کے بارہ میں درج ذیل ارشادات فرمائے۔حضور انور نے فرمایا: جواب: نماز جنازہ ایک دعا ہے جو مرحوم کی مغفرت اور بلندی درجات کے لئے پڑھی جاتی ہے۔اور جنت میں تو لا متناہی مقامات ہیں۔اسی لئے نماز جنازہ کے بعد بھی لوگ مرحومین کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں اور جب ان کی قبروں پر جاتے ہیں تو وہاں بھی ان مرحومین کی بلندی درجات کے لئے دعا کرتے ہیں۔اور یہ سارے امور آنحضور الم کی سنت سے ثابت ہوتے ہیں۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ ایک شخص جو مسجد کی صفائی ستھرائی کا کام کیا کرتا تھا ایک رات فوت ہو گیا اور لوگوں نے اسے دفن کر دیا۔اگلے دن حضور الم نے اس شخص کی بابت دریافت تو آپ کو بتایا گیا کہ وہ فوت ہو گیا ہے تو حضور الم نے فرمایا کہ تم نے مجھے اطلاع کیوں نہیں کی۔پھر حضور اس شخص کی قبر پر تشریف لے گئے اور وہاں اس کی نماز جنازہ ادا کی۔(صحيح بخاري كتاب الصلاة) اسی طرح حضرت عقبہ بن عامر کی روایت ہے کہ ایک روز نبی کریم الله لم باہر تشریف لائے اور شہداء اُحد کے لئے اس طرح دعا کی جس طرح میت کے لئے دعا کی جاتی ہے۔(صحيح بخاري كتاب الجنائز) باقی کسی امانتاد فن ہونے والے شخص کی میت کی منتقلی پر دوبارہ نماز جنازہ پڑھنا ضروری نہیں ہے، لیکن اگر پڑھ لیا جائے تو اس میں کوئی حرج کی بات بھی نہیں۔چنانچہ حضرت مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوٹی رضی اللہ عنہ کی وفات پر انہیں 11 اکتوبر 1905ء کو امانتاً دفن کیا گیا تھا، کیونکہ حضور علیہ السلام کی منشاء تھی کہ بہشتی مقبرہ کے قیام پر ان کی میت کو بہشتی مقبرہ منتقل کیا جائے۔لہذا 26 دسمبر 1905ء کو حضرت مولوی صاحب کی میت کو بہشتی مقبرہ منتقل کرتے 57