بُخارِ دل — Page 87
87 سلام بحضور سید الانام صلی اللہ علیہ وسلم وزگاه ذی شان خیر الانام شفیع الوری، مربع خاص و عام يصد عجز و منت بصد احترام یہ کرتا ہے عرض آپ کا اک غلام کہ اے شاہِ کونین عالی مقام علیک الصلوة علیک السلام - حسینان عالم ہوئے شرمگیں جو دیکھا وہ حُسن اور وہ ٹور جبیں پھر اس پر وہ اخلاق اکمل تریں کہ دشمن بھی کہنے لگے۔آفریں زہے خلق کامل - زہے حُسن تام علیک الصلوة علیک السلام خلائق کے دل تھے یقیں سے تہی جنوں نے تھی حق کی جگہ گھیر لی ضلالت تھی دُنیا وہ چھا رہی کہ توحید ڈھونڈے سے ملتی نہ تھی ہوا آپ کے دم سے علیک الصلوة اُس کا قیام علیک السلام محبت سے گھائل کیا آپ نے دلائل سے قائل کیا آپ نے جہالت کو زائل کیا آپ نے شریعت کو کامل کیا آپ نے بیان کر دیے سب حلال و حرام علیک الصلوة علیک السلام