بُخارِ دل — Page 7
7 بخار دل کا نام بخار دل رکھا ہے نام اس کا که آتشدان دل کا یہ دھواں ہے کسی کے عشق نے جب پھونک ڈالا تو نکلی مُنہ سے یہ آہ و فغاں ہے لگاتی آگ ہے لوگوں کے دل میں ہماری نظم بھی آتش فشاں ہے کہیں حکمت کے موتی ہیں بکھرے کہیں عشق و محبت کا بیاں ہے