بُخارِ دل

by Other Authors

Page 271 of 305

بُخارِ دل — Page 271

271 (168) نورنبوت ڈاکٹر اقبال نے باتیں ہیں کچھ اچھی کہیں بوالکلام آزاد بھی لکھتے ہیں املا دلنشیں جس قدر سکتے ہیں دینی اُن کی تصنیفات میں فیض ہیں مرزا غلام احمد کا وہ سب بالیقیں (169) جوانی اور بڑھاپا کبھی بادام ثابت بتوڑتے تھے اپنے دانتوں سے ولے اب تو گری تک کا چہانا ہم سے مشکل ہے سنا ہے اگے لوگوں کو کہ تھے وہ ساٹھے اور پاٹھے مگر پچپن چھ سے پہلے ہی یہاں تو دانتا کلکل۔(170) مرتے وقت شراب ہے بیمار کو گوٹھر بھی جائز ہے مرض میں پر نزع میں کیا فائدہ دینے کا برانڈی افلاک پر کیا کام کسی گندہ نے دہن کا کیوں خُلد میں راہ پائے اُبلتی ہوئی ہانڈی (171) غیر فانی محسن ہی ہمارا محبوب ہوسکتا ہے عشق ہر رنگ میں جنت ہے اگر یار ہو وہ ورنہ ہے آتش دوزخ یہ محبت میری کہ سواحق کے ہر اک چیز فنا کا ہے شکار پوری ہوتی نہیں فانی سے ضرورت میری مجھ کو درکار ہیں وہ حسن وہ احساں جن سے دائمی فیض کی مورڈ رہے فطرت میری (172) اسلام اس دین میں الہام ہے بُرہاں ہے نشاں ہے تنظیم نمازیں ہیں تو تبلیغ اذاں ہے اسلام کے اوصاف کو کیا گن سکے کوئی دلکش ہے ہر اک بات عیاں راچہ بیاں“ ہے 1 ساٹھ سال کے ہو کر بھی بیٹھے جوان تھے۔2 یعنی پنشن کا وقت۔3 شراب پینے والے کا۔4 یعنی جس معدہ میں شراب ہو۔