بُخارِ دل — Page 258
258 روزی کو خدا کے ذمہ ڈال دینا۔مطلب یہ ہے کہ پورا اللہ کا نوکر ہوجانا مگر بعض لوگ ہر قسم کی روزی کا نام تو کل کا رزق رکھا دیتے ہیں حالانکہ یہ غلط ہے۔کام کر اللہ کا۔دے گا وہ رزق نام اس کا ہے تو گل“ اے سعید مخبری پیشہ، پولیس کی نوکری کر تو گل کی نہ یوں مٹی پلید (103) قرآنی مقطعات سورہ فاتحہ کے اجزا ہیں گر اصل فاتحہ، قرآن اس کی ہے تعبیر مقطعات ہیں پھر سورتوں پہ کیوں تحریر؟ سو یا د رکھ کہ یہ الحمد ہی کے ہیں ٹکڑے یہ سورتیں انہی اجزا کی کرتی ہیں تفسیر (104) کامل کتاب سوائے قرآن مجید کے اور کوئی نہیں مذہب کی کتابوں میں کہلائے گی وہ اعلیٰ جو خود ہی دلائل دے اور خود ہی کرے دعویٰ رکھے جو نہ یہ خوبی، رڈی کا پلندہ ہے ایس دفتر بے معنی۔غرق مئے ناب اولی“ (105) نفس راضیہ ہی مرضیہ بن سکتا ہے منہ سے کیا جیتا ہے اللہ کی رضامل جائے بندہ خود اس سے ہوراضی تو رضا تب مانگے ہے حقیقت یہ دُعاؤں کی تری ، اے کا فر! وہ تو راضی بھی ہے، پر تو نہیں راضی اُس سے (106) شكر میرا سب کچھ ہے امانت آپ کی اور جو لے لو وہ بھی دولت آپ کی جو رہے باقی سو وہ بھی فضل ہے ہر طرح پر ہے عنایت آپ کی