بُخارِ دل — Page 240
240 (12) غیر مبائعیین کی تبدیلی عقیدہ دعوی احمد نے نبوت کا کیا ثُمَّ أَقْرَرْتُمْ وَأَنْتُمْ تَشْهَدُون بعد رحلت جب یہی ہم نے کہا ثُمَّ انْتُمُ هَؤُلَاءِ تَقْتُلُون (13) غیر مبائعین سے اُن کی نمازوں کے متعلق کچھ عرض غیر ہیں سب ميتون کر نمازوں کا نہ خُون اقتدا اُن کی حرام فَا فَعَلُوا مَا تُؤْمَرُون (14) حشر کے دن ایک آریہ روح و مادہ کو مخاطب کر کے یوں کہے گا روح و ماده! تم تو ازلی تھے نہیں لیک ہم رکھتے تھے ایسا ہی یقیں آریہ بن کر بھی گمراہ ہی رہے إِذْ نُسَوِّيْكُمْ بِرَبِّ الْعَالَمِينَ (15) اعمال نیت پر منحصر ہیں جیسی نیت ہوگی ویسی ہی بر آئیگی مُراد نیک نیت بامراد اور بد ارادہ نامراد ساری برکت فعل کی نیت سے وابستہ ہے جب إِنَّمَا الَا عُمَالُ بِالنِّيَّات رکھ ہر وقت یاد (16) فطرتی تو حید جو عقل سے حاصل ہو سکتی ہے مُكَلَّف ہے ہر رُوح توحید کی اگرچہ نہ دیکھا ہو اس نے نبی یہی دین فطرت ہے ہر عقل کا الستُ (17) ذکر اور دُعا یہ ہے وہ بلی بولتی کرتے تھے ذکر خوب بزرگانِ اولین لیکن دُعا ہے طُرہ وطغرائے آخرین کہتے تھے وہ بزرگ تو اِيَّاكَ نَعْبُدُ اور آج کل کے کہتے ہیں إِيَّاكَ نَسْتَعِين یعنی جب ہم تمہیں خدا کے برابر سمجھتے تھے۔