بُخارِ دل

by Other Authors

Page 214 of 305

بُخارِ دل — Page 214

214 اب ہوا آ کے یاں ہمیں معلوم اس کے سب کام تھے ریا کے لئے یہ جو صاحب ہیں خوب پھر تے تھے کپڑے مصنوعی اتقا کے لئے چاہئے کچھ سزا ضرور یہاں ایسے گمراہ خود نما کے لئے تو ہی بتلا کہ عذر کیا ہو گا؟ مجھ گنہگار ناسزا کے لئے کس سے جا کر کہوں میں تیرے سوا اپنے اس درد کی دوا کے لئے کون بنتا ہے بے کسوں کا رفیق؟ کون روتا ہے بے نوا کے لئے بس تو ہی ہے جو کام آتا ہے ہر جفا کار پُر خطا کے لئے بخش میرے گناہ اے غفار! سید الخلق مصطفے کے لئے“ دونوں عالم میں پردہ پوشی کر اپنے محبوب میرزا کے لئے ہائے افسوس! مجھ سے نبھا نہ سکے عہد تجھ۔سے تھے جو وفا کے لئے مارے رقت کے لب نہیں گھلتے ہے زباں بند مدعا کے لئے بات منہ میں۔نہ ذہن میں الفاظ کیا کروں عرض التجا کے لئے؟ ہاتھ بس رہ گئے ہیں اک باقی ہوں اُٹھاتا اُنہیں دُعا کے لئے (آمین) (الفضل 21 جنوری 1944ء)