بُخارِ دل

by Other Authors

Page 202 of 305

بُخارِ دل — Page 202

202 تو کیا آئے تم آئے اور گلے ملنے سے کترائے تو کیا آئے ہم آئیں اور تمہارا دل نہ گرمائے تو کیا آئے مزا آنے کا ہے تب ہی کہ ہنستے بولتے آؤ اگر چہرے پہ اپنے بے رُخی لائے تو کیا آئے نہیں ہے بے سبب بے رونقی مسجد کے مولانا تمہارے ہاں کے فتوے سُن کے جو جائے تو کیا آئے سبھی مذہب بلاتے ہیں ہمیں پھر نقد جنت کو بجز اسلام کے انساں نہ گر پائے تو کیا آئے مسیح ناصری کی آمد ثانی پہ کیا جھگڑا جو اپنی عمر پوری کر کے مر جائے تو کیا آئے؟ مصیبت قحط کی آئی تو کون آتا ہے کس کے ہاں نہ ہوشربت نہ ہو کھانا نہ ہو جائے تو کیا آئے جو صالح نیک کہلا کر بھی آقا کی کرے چوری بپاس شرم و غیرت پھر چلا جائے تو کیا آئے حقیقی حسن کا جلوہ تو احمد ہی ہے۔اے صوفی ! تیرے دل میں مجازی نقش کچھ آئے تو کیا آئے