بُخارِ دل — Page 195
195 مومن کیا چاہے عقمی میں کھانا پینا بیوی باتیں گھاتیں اور دل لگیاں گوریں، نوکر باغ اور کوٹھی خالق خوش ہو مالک راضی کوئی نه ہووے تنگی ترشی جسم کے سارے عیش و تَنَعُمُ روح کی ساری طرب و گلوری جو بھی مانگے وہ ہو حاضر اور مل جائے جو چاہے جی عشق کی لہریں، علم کی نہریں ہر بُنِ مو سے اُس کے جاری غير مگر دل کی خوشیاں لذت دائم، جنت ابدی سامنے دلبر دلبر محسن نعمت ہر دن سے پچھلا بڑھ کر اور وصل خدا کا اس ނ چاہتے کیا ہو میرے ترقی ہو آگے رکھی زیادہ بھائی؟ اور ترقی (الفضل یکم اگست 1943ء) خوش و خرمی 2 شان، عظمت، رونق