بُخارِ دل — Page 175
175 میرے خدا پاک تیرا نام ہے میرے خدا رحم تیرا کام ہے میرے خدا جو بُلاتا ہے تجھے شاہا! وہ خود عاجز و گمنام ہے، میرے خدا تیرے احساں دیکھ کر ہر عظمند بندہ بے دام ہے، میرے خدا رحمتیں دنیا تیری چھا گئیں فضل بر ہر گام ہے، میرے خدا چاشنی دی عشق کی انسان کو واہ کیا اکرام ہے، میرے خدا دحسن و خوبی، دلبری بر تو تمام یہ ترا الہام ہے میرے خدا صحته بعد از لقائے تو حرام ورنہ اُلفت خام ہے میرے خدا ایکہ تو ہے خالق ارواح و نیز مالک اجسام ہے، میرے خدا قادر و منعم غفور و ذوالجلال تیرا کیا کیا نام ہے، میرے خدا رُعب حُسنِ یار کی ہیبت نہ پوچھ نفس سرکش رام ہے میرے خدا آج تک بھی وہ اکسٹ وہ یکی قلب پر ارقام ہے، میرے خدا میری ہر خواہش کو پورا کر دیا واہ کیا انعام ہے، میرے خدا چاہیں ساتھ ہی دنیا کو بھی یہ خیال خام ہے، میرے خدا بے بقا، دنیائے فانی، بے وفا کس کے آتی کام ہے، میرے خدا در جهان و باز بیرون از جہاں یہ تبتن تام ہے، میرے خدا دل جو ہو لبریز اُلفت سے تیری مهبط الہام ہے، میرے خدا مانگنا پیشہ ہے اپنا۔اے کریم بود تیرا کام ہے، میرے خدا تجھ کو