برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 169

برکاتِ خلافت — Page 138

برکات خلافت 138 مگر اس کام کے کرنے کی تحریک اللہ تعالیٰ نے ہی اس کے دل میں ڈالی ہے۔اسی طرح جو نیک کام کوئی شخص کرتا ہے وہ اصل میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف منسوب ہوتا ہے اس لئے اصل حمد کے لائق خدا تعالیٰ ہی ہے۔مثلاً ایک آقا اپنے ملازم کو کہے کہ یہ روپیہ فقیروں میں تقسیم کر دو تو گو تقسیم تو وہ خادم ہی کرے گا لیکن تعریف آقا ہی کے لئے ہے۔پس انسان جو کسی سے نیک سلوک کرتا ہے تو وہ آقا کے مال کو تقسیم کرنے کی طرح ہی خدا تعالیٰ کی طرف سے کرتا ہے کیونکہ کوئی چیز اس کی نہیں بلکہ ہر ایک چیز خدا تعالیٰ کی ہے۔تو جتنا کسی میں احسان مروت، حسن اور خوبصورتی ہے وہ اللہ ہی کی ہے کیونکہ تمام دنیا اس کی خادم ہے اور اس کے سوا اور کوئی آقا نہیں ہے۔لوگوں کو دین میں بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں۔ماں باپ، بیوی بچوں، مال و دولت خویش، اقرباء کی وجہ سے۔مگر یاد رکھو کہ اللہ اللہ ہی ہے اور بندے بندے ہی ہیں۔تم ہر بات میں یہ تحقیق کر لیا کرو کہ خدا کی مرضی کیا ہے اور جب خدا تعالیٰ کی مرضی معلوم ہو جائے تو پھر خواہ کوئی چیز قربان کرنی پڑے تمہارے مدنظر خدا ہی کی رضا ہو۔شرک سے بچو: اس سے بڑھ کر میں ایک اور بات بتا تا ہوں اور وہ یہ ہے کہ انسان کو چاہئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے اللہ ایک ہے۔میں یقین کرتا ہوں کہ کوئی احمدی مشرک نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو موحد بنے کی توفیق دی ہے اس لئے مجھے یہ تو ڈر نہیں کہ کوئی احمدی بتوں کے آگے سجدہ کرے گا یا خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی اور کا دامن پکڑنے کی کوشش کرے گا۔باقی دنیا نے تو دین کو چھوڑ دیا ہے مگر تم وہ جماعت ہو جس نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے۔پھر خدا تعالیٰ نے اس