برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 169

برکاتِ خلافت — Page 114

برکات خلافت 114 حضرت مسیح موعود کی کتابوں کا امتحان: حضرت مسیح موعودؓ کو اس بات کا شوق تھا کہ آپ کی کتب کا ایک کورس مقرر کیا جائے۔لوگ اسے یاد کیا کریں اور پھر سالانہ جلسہ کے موقع پر ایک دن ان کے امتحان کا رکھا جائے اور ان سے سوالات پوچھے جایا کریں۔میرا دل چاہتا ہے کہ آپ کی یہ خواہش بھی رائگاں نہ جائے۔اور اس پر عمل ہونا شروع ہو جائے اور اگلے سال سے امتحان لینا شروع کر دیا جائے۔کتاب ازالہ اوہام دونوں حصے غیر احمدیوں کے متعلق اور سرمہ چشم آریہ آریوں کے متعلق یہ دونوں کتابیں اس سال یاد کی جائیں۔جتنے احباب چاہیں اس میں حصہ لیں اور آئندہ جلسہ میں جن کو خدا تعالیٰ زندگی دے آئیں اور پھر جن کو خدا تعالیٰ امتحان کی توفیق دے وہ ان کتابوں کا امتحان دیں تا کہ جو غلطیاں ہوں وہ ان کو بتائی جائیں۔مختلف فیہا مسائل کا حل : میرا یہ بھی ارادہ ہے کہ جماعت میں جو مختلف فیہا مسائل ہیں ان کو حل کیا جائے۔میں اس کوشش میں ہوں کہ کچھ آدمی اس کام کے لئے مقرر کئے جائیں۔احمدیوں کے جو اعتقادات ہیں ان کو حضرت مسیح موعود کی کتب کے حوالہ سے لکھ دیں تا کہ آئندہ کسی قسم کا جھگڑا نہ ہو۔کیسے تعجب کی بات ہے کہ تمہیں سال کے بعد احمدی جماعت میں آج یہ جھگڑا پیدا ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود نبی تھے یا نہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اس جھگڑے کے بانیوں نے حضرت مسیح موعود کی کتابوں کو نہیں پڑھا اور جب پڑھا تو یہ جان کر پڑھا کہ آپ نبی نہیں تھے جس طرح بعض عیسائی سارا قرآن شریف پڑھ جاتے ہیں تو انہیں کوئی بھی اچھی بات معلوم نہیں ہوتی۔اسی طرح ان کے ساتھ ہوا۔اب میرا ارادہ کچھ آدمی مقرر کرنے کا ہے جو ایک مکمل رسالہ اس