برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 169

برکاتِ خلافت — Page 104

برکات خلافت الله 104 آنحضرت ﷺ نے نماز با جماعت کے متعلق اتنی احتیاط فرمائی ہے کہ جس کا بیان ہی نہیں ہوسکتا۔ایک دفعہ ایک اندھا آپ کے حضور حاضر ہوا۔اور اس نے عرض کی کہ یا رسول اللہ مجھے مسجد میں آتے ہوئے سخت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔میرے پاس کوئی ایسا شخص نہیں جو میرا ہاتھ پکڑ کر مسجد تک پہنچا دے اگر مجھے اجازت ہو تو میں گھر میں ہی نماز پڑھ لیا کروں۔آپ نے فرمایا بہت اچھا لیکن جب وہ لوٹ کر چلا تو پھر آپ نے اسے واپس بلا یا اور پوچھا کہ کیا تمہارے گھر تک آذان کی آواز پہنچتی ہے؟ اس نے کہا حضور پہنچتی ہے۔آپ نے فرمایا جب آذان پہنچتی ہے تو مسجد میں حاضر ہوا کرو۔رسول کریم ﷺ نے یہاں تک فرمایا ہے کہ جو لوگ عشاء اور صبح کی نماز با جماعت پڑھنے کے لئے مسجد میں نہیں آتے۔میرا دل چاہتا ہے کہ میں اپنی جگہ کسی اور کونماز پڑھانے کے لئے کھڑا کر دوں اور اپنے ساتھ اور آدمیوں کو لے کر ان کے سر پر ایندھن رکھ کر سارے شہر میں سے ان لوگوں کو معلوم کروں جو نماز میں شامل نہیں ہوئے اور پھر آدمیوں سمیت ان کے گھر پھونک دوں۔دیکھو ایسا رحیم و کریم انسان ایسا مشفق اور مہربان انسان فرماتا ہے کہ جو جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے میرا دل چاہتا ہے کہ میں ان کو اور ان کے گھروں کو جلا کر راکھ کر دوں۔اس حدیث سے نماز باجماعت کی عظمت کا خوب پتہ لگ جاتا ہے۔عشاء اور صبح کی نماز کی خصوصیت اس لئے فرمائی کہ یہ دونوں وقت سخت ہیں عشاء کے وقت لوگ نیند سے مجبور ہو کرستی کرتے ہیں اور صبح کے وقت آنکھ کھلنی مشکل ہوتی ہے جب ان دونوں وقتوں کے متعلق ایسے تشدد کا اظہار فرمایا تو دوسرے وقتوں کی نمازوں