برگِ سبز — Page 274
برگ سبز معاشرتی نظام کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں جو روایت کے نام پر عورتوں کے قتل کو روا رکھتا ہے تو حکمران جماعت اس کے خلاف کھڑی ہو جاتی ہے۔یہی حکمران جماعت پنجاب میں مخلوط دوڑ کی وکیل ہے۔روشن خیالی کے ساتھ وابستگی کے یہ دو متضاد مظاہرے بتارہے ہیں کہ اس کا ماخذ داخل میں یا فکر میں نہیں ، کہیں خارج میں ہے۔اگر اس روشن خیالی کی اساس داخلی ضروریات سے اٹھی ہوتی تو پھر ترجیحات کا تعین اور طرح سے ہوتا۔اس میں کس کو کلام ہے کہ اس معاشرے میں مذہب اور روایت کے نام پر خواتین کے بنیادی حقوق کی نفی کی جاتی رہی ہے اور یہ سلسلہ بغیر کسی وقفے کے جاری ہے۔یہاں عورت کو غیرت کے نام پر جینے کے حق سے محروم کیا گیا ، وراثت سمیت اس کے معاشی حقوق کا انکار کیا گیا۔اس کے سیاسی و مذہبی حقوق پامال کئے گئے۔ہمارے معاشرتی نظام نے اس کے انفرادی وجود کا ہر پہلو سے انکار کیا۔سوال یہ ہے کہ ہم نے اس کے لئے کیا کیا۔کیا یہاں عورت کا محض یہی ایک مسئلہ باقی ہے کہ اسے مردوں کے ساتھ سڑکوں پر دوڑنے کے حق سے محروم کیا گیا ہے۔یہاں عورت لباس سے محروم ہے اور لوگوں کو اس کی زلف پریشاں کی فکر ہے۔“ اس غیر ضروری، غیراہم بلکہ بے جواز اقدام پر حکومت کے موقف اور اس پر اصرار کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں : ”میرے نزدیک یہ کوئی دین وشریعت کا مسئلہ نہیں ہے لیکن یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ حکومت پنجاب کو اس پر اتنا اصرار کیوں ہے؟ مطالبات ہمیشہ معاشرے کے اندر سے پھوٹتے ہیں ، انہیں کبھی اوپر سے نافذ نہیں کیا جا 274