برگِ سبز — Page 16
برگ سبز مبلغ کی صدائے دل مرے مولی رہ تبلیغ اک پر خار منزل ہے دلوں کے زنگ دھونے کا فریضہ سخت مشکل ہے سیاسی ظلمتوں کے بحر طوفاں خیز میں ہر سو نہ کشتی ہے نہ کشتی ہاں نہ علم سمت ساحل ہے ملک بیگانه اکیلا ہوں زباں نا آشنا ہے نہ میری معرفت کامل نہ میرا علم کامل ہے وطن بیگانہ مرشد سے جدا احباب سے دوری میرے رستے میں روکیں ہیں حجاب علم حائل ہے علوم ظاہری سے مغربی اقوام سرگشته سمجھتے ہیں کہ یہ ہندی ہے اس کا ملک جاہل دلوں میں ان کے گھر کرنا رہ اسلام پر لانا ہے ہے تسلی تو خدایا سخت مشکل ہے خدایا سخت مشکل اب اتنی ہے کہ تیرا بندہ عاجز دعائے مرشد و احباب میں ہر وقت شامل ہے بھروسہ تیری رحمت پر سہارا تیری نصرت کا تمنا یہی سرمایہ ہمت یہی تو قوت دل ہے ہے نہ بھولیں احمدی ہم کو دعاؤں میں اگر یہ بات حاصل ہے تو سب کچھ ہم کو حاصل ہے ( حضرت ذوالفقار علی گوہر صاحب) 16