بیت بازی — Page 806
806 ۷ Λ ۱۱ ۱۲ ۱۳ در ثمین فرقت بھی کیا بنی ہے؟ ہر دم میں جاں کنی ہے عاشق جہاں پہ مرتے؛ وہ کربلا یہی ہے فکروں میں دل حزیں ہے جاں درد سے قریب ہے جو صبر کی تھی طاقت ؛ اب مجھ میں وہ نہیں ہے فطرت ہر اک بشر کی ؛ کرتی ہے اس سے نفرت پھر آریوں کے دل میں؛ کیوں کر بسا یہی ہے فطرت کے ہیں درندے؛ مردار ہیں نہ زندے ہردم زباں کے گندے؛ قہر خدا یہی ہے در عدن فانی تمام ناز ہیں؛ باقی ہے اس کا ناز جس کو بقا پہ ناز ہے؛ وحدت پہ ناز ہے فضلوں کی لگیں جھریاں خوشیوں سے کٹے گھڑیاں انعام کی بارش ہو؛ خالق کی عنایت سے فرش سے عرش پہ پہنچی ہیں صدائیں میری میرے اللہ نے سُن لی ہیں دعائیں میری فریاد سب کیا کریں آقا کے سامنے تڑپا کریں نماز میں مولا کے سامنے فضل خدا کا سایہ ہم پر رہے ہمیشہ ہر دن چڑھے مبارک؛ هرشب بخیر گذرے کلام طاهر فطرت میں نہیں تیری غلامی کے سوا کچھ نوکر ہیں ازل سے؛ تیرے چاکر ہیں سدا کے فاتحہ کیلئے ہم جائیں؟ تو یہ نہ ہو کہیں ہم سے شکوہ کریں؛ وہ قبریں، کہ اب کیوں آئے کلام محمود فتح و نصرت کی انہیں روز نئی پہنچے خوشی ڈور ہو؛ دین میں ہے، ان کی جو یہ گمراہی فدا تجھ مسیحا! میری جاں ہے کہ تو ہم بے کسوں کا پاسباں ہے مگر آگے تلاش کردیاں ہے فکر دیں میں گھل گیا ہے میرا جسم دل میرا اک کوه آتش بار ہے ۱۴ فلک ۱۵ ۱۶ 12 ۱۸ تا منارہ آئیں عیسی فرزانوں نے دنیا کے شہروں کو اُجاڑا فدا ہوتے ہیں پروانے اگر شمع ہے منور ہے آباد کریں گے اب دیوانے یہ ویرانے تو تیرے رُوئے روشن پر نہ میں کیوں جان دُوں ساقی فریب خورده اُلفت فریب خوردہ ہے مگر تو سامنے اس کو کبھی بلا تو سہی