بیت بازی — Page 715
715 کلام طاهر دو آنکھیں ہیں شعلہ زا؛ یا جلتے ہیں پروانے دو یہ اشک ندامت پھوٹ پڑے؛ یا ٹوٹ گئے پیمانے دو کلام محمود یوں الگ گوشئہ ویراں میں جو چھوڑا ہم کو نہیں معلوم کہ کیا قوم نے سمجھا ہم کو یہیں سے اگلا جہاں بھی دکھا دیا مجھ کو ہے ساغر کئے اُلفت پلا دیا مجھ کو دونوں میری حقیقت سے دُور ہیں محمود خُدا نے جو تھا بنانا بنا دیا مجھ کو یاد رکھ لیک؛ کہ غلبہ نہ ملے گا؛ جب تک دل میں ایمان نہ ہو؛ ہاتھ میں قرآن نہ ہو یونہی بے فائدہ سر مارتے ہیں ویدوطبیب اُن کے ہاتھوں سے جو اچھا ہو؛ وہ آزار بھی ہو یہ عشق و وفا کے کھیت کبھی خوں سینچے بغیر نہ پہنیں گے اس راہ میں جاں کی کیا پروا؛ جاتی ہے اگر، تو جانے دو یا مرے پہلو میں آکر بیٹھ جا؟ پھر بیٹھ جا یا مری خواہش مٹا دے؛ ہاں مٹا دے آج تُو یا محمد دلبرم؛ از عاشقان روئے تُست مجھ کو بھی اُس سے ملا دے؛ ہاں ملا دے آج تُو یا بزمِ طرب کے خواب نہ تو دکھلا اپنے دیوانے کو یا جام کو حرکت دے لیلیٰ ! اور چکر دے پیمانے کو یہ میری حیات کی الجھن تو ہر روز ہی بڑھتی جاتی ہے وہ نازک ہاتھ ہی چاہیئے ہیں؛ اس گتھی سے سلجھانے کو یاد جس دل میں ہو اس کی وہ پریشان نہ ہو ذکر جس گھر میں ہو اس کا؛ کبھی ویران نہ ہو یہ نور کے شعلے اٹھتے ہیں؛ میرا ہی دل گرمانے کو جو بجلی افق میں چپکی ہے؛ چپکی ہے مرے تڑپانے کو زخم تمہارے سینوں کے بن جائینگے رشک چمن اس دن ہے قادر مطلق یار مرا؛ تم میرے یار کو آنے دو یا صدق محمد عربی ہے؛ یا احمد ہندی کی ہے وفا باقی تو پرانے قصے ہیں؛ زندہ ہیں یہی افسانے دو یہ جو معشوق لئے پھرتی ہے اندھی دنیا میرے محبوب سی ہی ان میں کہیں آن نہ ہو 2 ا۔۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹