بیت بازی

by Other Authors

Page 685 of 871

بیت بازی — Page 685

685 ۹ ۱۲ ۱۴ ۱۵ 17 ۱۷ جاں چاہتی ہے تجھ پہ نکلنا؛ اے میری جاں! دل کی یہ آرزو ہے؛ کہ تجھ پہ نثار ہو جفائے اہلِ جہاں کا ہوا جو میں شاکی تھپک کے گود میں اپنی سُلا دیا مجھ کو جہاں حسد کا گزر ہے؛ نہ دُخلِ بد ہیں ہے ہے ایسے ملک کا وارث بنادیا مجھ کو جب تک : ہو کوئی باعث درد جو ہیں خالق سے خفا؛ اُن سے خفا ہو جاؤ جو ہیں اس ڈر سے جُدا؛ اُن سے جُدا ہوجاؤ بے وجہ پھر اضطرار کیوں ہو جس شخص کا کٹ رہا ہو گھر بار خوشیوں سے بھلا دوچار کیوں ہو جب گزر جائیں گے ہم ؛ تم پر پڑے گا سب بار سُستیاں ترک کرد؛ طالب آرام نہ ہو جو صداقت بھی ہو؛ تم شوق سے مانو اُس کو علم کے نام سے پر؛ تابع اوہام نہ ہو جہانِ فلسفہ کی علموں کا چارہ گر ہے تو مگر جو آنکھ کے آگے ہے؛ اس سے بے خبر ہے تو جلوہ یار ہے؟ کچھ کھیل نہیں لوگو! احمدیت کا بھلا؛ نقش مٹا دیکھو تو ہے ۱۸ بود و احسان شہنشہ پہ نظر رکھ اپنی ۱۹ ۲۱ ۲۲ جورِ اغیار افسرده و نالان نہ ہو ہو؟ جب سونا آگ میں پڑتا ہے؟ پھر گالیوں سے کیوں ڈرتے دل جلتے ہیں، جل جانے دو تو کندن بن کے نکلتا ہے سچے مومن بن جاتے ہیں؟ تم سچے مومن بن جاؤ اور خوف کو پاس نہ آنے دو ہے موت بھی اُن ڈرتی ނ جس کے پڑھ لینے سے کھل جاتا ہے راز کائنات وہ سبق مجھ کو پڑھادے؛ ہاں پڑھادے آج تو جس سے جل جائیں خیالاتِ من و مائی تمام آگ وہ دل میں لگادے؛ ہاں لگادے آج تُو جس ނ سب چھوٹے بڑے؛ دل سے وہ چشمہ بہادے؛ ہاں بہارے آج تُو ہوں شاداب ہوں، سیراب جو اس کے پیچھے چلتے ہیں؟ ہر قسم کی عزت پاتے ہیں لگ جاؤ اسی کی طاعت میں ؛ اور چون و چرا کو رہنے دو جس سر پہ بُھوت عشقِ صنم کا سوار ہو قسمت یہی ہے اُس کی؛ کہ دنیا میں خوار ہو ۲۳ ۲۴ ۲۵