بیت بازی — Page 663
663 ۱۳ ۱۶ 12 ۱۸ ۱۹ نظر بظاہر ہے عاشقوں اور مالداروں کا حال یکساں وہ رہتے ہیں اپنی دھن میں؟ مست رہتے ہیں اپنے دھن میں ۱۴ نگاہ یار سے ہوتے ہیں سب طبق روشن رُمُوزِ عشق کی اس کو کتاب کہتے ہیں ۱۵ نکالا مجھے؛ جس نے میرے چمن میں اُس کا بھی دل سے بھلا چاہتا ہوں نکل گئے جو تیرے دل سے خار کیسے ہیں جو تجھ کو چھوڑ گئے؟ وہ نگار کیسے ہیں نہ آرزوئے ترقی نہ صدمہ ذلت خُدا بچائے؟ یہ کیل و نہار کیسے ہیں نہ حسن خلق ہے تجھ میں؛ نہ محسن سیرت ہے تو ہی بتا؛ کہ یہ نقش و نگار کیسے ہیں نہ غم سے غم نہ خوشی سے میری تجھے ہے خوشی خُدا کی مار؛ یہ قرب و جوار ؛ کیسے ہیں نہ دل کو چین نہ سر پر ہے سایہ رحمت ستم ظریف! یہ باغ و بہار کیسے ہیں نہ وصل کی کوئی کوشش نہ دید کی تدبیر خبر نہیں؛ کہ وہ پھر بے قرار کیسے ہیں نہ خُدا سے ہے محبت نہ محمدؐ سے ہے پیار تم کو وہ دیں سے عداوت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں نام اسلام کا ہے؛ کفر کے ہیں کام تمام اس پہ پھر ایسی رعونت ہے؛ کہ جاتی ہی نہیں نظر آرہی چمک وہ حُسنِ ازل کی شمع حجاز میں کہ کوئی بھی اب تو مزا نہیں رہا قیس عشق مجاز میں نہیں چھٹتی نظر آتی میری جاں پھنسا ہوں اس طرح قید گراں میں ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ؛ ہے جو پورا امتحاں میں نظر میں کاملوں کی ہے وہ کامل اترتا ندائے دوست آئی کان میں کیا کہ پھر جاں آگئی اک نیم جاں میں نہ طعنہ ظن ہو مری بے خودی پہ اے ناصح ! میں کیا کہوں؛ کہ مرا اس میں اختیار نہیں