بیت بازی

by Other Authors

Page 480 of 871

بیت بازی — Page 480

480 ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ تیرے کاموں سے مجھے حیرت ہے؛ اے میرے کریم کس عمل پر مجھ کو دی ہے خلعتِ قرب وجوار تیرے اے میرے مربی! کیا عجائب کام ہیں گرچہ بھا گئیں جبر سے؛ دیتا ہے قسمت کے ثمار تیرے ہاتھوں سے مرے پیارے اگر کچھ ہو، تو ہو ورنہ فتنہ کا قدم بڑھتا ہے ہردم سیل وار تم تو کہتے تھے کہ یہ نابود ہو جائیگا جلد یہ ہمارے ہاتھ کے نیچے ہے اک ادنی شکار ۱۷ تھا نوشتوں میں یہی از ابتدا تا انتہا پھر مٹے کیونکر؛ کہ ہے تقدیر نے نقش جدار تیرے آگے محو یا اثبات ناممکن نہیں جوڑنا یا تو ڑنا یہ کام تیرے اختیار تو ہی بگڑی کو بناوے؛ توڑ دے جب بن چکا تیرے بھیدوں کو نہ پاوے سوکرے کوئی بچار ہے ثمر ؛ جب تک کہ ہو وہ نا تمام اس طرح ایماں بھی ہے؛ جب تک نہ ہو کامل پیار تیرے منہ کی بھوک نے دل کو کیا زیروزبر اے میرے فردوس اعلیٰ ! اب گرا مجھ پر شمار تا دکھاوے منکروں کو؛ دیں کی ذاتی خوبیاں جن سے ہوں شرمندہ؛ جو اسلام پر کرتے ہیں وار ۱۸ ۱۹ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۹ تلخ ہوتا در عدن تازگی آگئی چہروں پر کھلے جاتے ہیں دل کی حالت کا زباں کر نہیں سکتی اظہار تیری نصرت سے ساری مشکلیں آسان ہو جائیں ہزاروں رحمتیں ہوں؛ فضل کے سامان پیدا کر کلام طاهر تیرے حضور نہ ہے مرا زانوے ادب میں جانتا نہیں ہوں کوئی پیشوا دگر تیرے وجود کی ہوں میں وہ شاخ باشمر جس پر ہر آن رکھتا ہے رب الوری نظر تجھ میں تھیں جو چشم ہائے تر با رحمت علی سے بہرہ ور آج بھی ہیں اُن میں سے کئی نرگسی خصال دیدہ ور کلام محمودی ۲۸ تھا مسیحا بھی تو پیدائش وقت قیصر زندگی چھوٹے بڑے چین سے کرتے تھے بئر تم پہ کھولے جائیں گے بخت کے دروازے ہیں تم پہ ہوجائیں گے سب اسرار قدرت آشکار تھی ماحصل حیات کا اک سعی ناتمام کائی گئی غریب حوادث کی دھار پر تھی موت کے وقت اس کی یہ طرفہ حالت کب پہ تھی اگر آہ! تو ئن میں نجر