بیت بازی

by Other Authors

Page 477 of 871

بیت بازی — Page 477

477 ۹ ۱۲ ۱۳ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ پر مجھے اس نے نہ دیکھا؟ آنکھ اس کی بند تھی پھر سزا پا کر لگایا سرمه دنباله دار پھر ادھر بھی کچھ نظر کرنا خدا کے خوف سے کیسے میرے یار نے مجھ کو بچایا بار بار پھر لگایا ناخنوں تک زور بن کر اک گروہ پر نہ آیا کوئی بھی منصوبہ ان کو سازوار پاک و برتر ہے وہ جھوٹوں کا نہیں ہوتا نصیر ورنہ اُٹھ جائے اماں پھر سچے ہوویں شرمسار پر اگر پوچھیں کہ ایسے کاذبوں کے نام لو جن کی نصرت سالہا سے کر رہا ہو کردگار پھر اگر ناچار ہو اس سے؛ کہ دو کوئی نظیر اس مہیمن سے ڈرو؛ جو بادشاہ ہردو دار ۱۴ پھر عجب یہ علم یہ تنقید آثار و حدیث دیکھ کر سوسونشاں؛ پھر کر رہے ہو تم فرار پیٹنا ہوگا دو ہاتھوں سے؛ کہ ہے ہے مرگئے جبکہ ایماں کے تمہارے گند ہوں گے آشکار پر جو دنیا کے بنیں کیڑے؛ وہ کیا ڈھونڈیں اسے دیں اُسے ملتا ہے؛ جو دیں کیلئے ہو بیقرار پھر وہ دن جب آگئے؛ اور چودھویں آئی صدی سب سے اول ہو گئے منکر یہی دیں کے منار پھر دوبارہ آگئی اخبار میں رسم یہود پھر مسیح وقت کے دشمن ہوئے یہ جبہ دار اگر آتا کوئی جیسی انہیں امید تھی اور کرتا جنگ؛ اور دیتا غنیمت بے شمار پر یہ تھا رحم خداوندی؛ کہ میں ظاہر ہوا آگ آتی ، گر نہ میں آتا؛ تو پھر جاتا قرار پر ہزارافسوس! دنیا کی طرف ہیں جھک گئے وہ جو کہتے تھے؛ کہ ہے یہ خانہ ناپائیدار پھر رکھایا نام کافر ہو گیا مطعون خلق کفر کے فتووں نے مجھ کو کر دیا بے اعتبار پاک دل پر بدگمانی ہے یہ شقوت کا نشاں اب تو آنکھیں بند ہیں؛ دیکھیں گے پھر انجام کار پشتی دیوار دیں اور مامن اسلام ہوں نارسا ہے دست دشمن تا بفرق ایں جدار پھر یقیں کو چھوڑ کر ؛ ہم کیوں گمانوں پر چلیں خود کہو! رؤیت ہے بہتر؛ یا نقول پر غبار پھر یہ نقلیں بھی اگر میری طرف سے پیش ہوں تنگ ہو جائے مخالف پر مجال کارزار پر ہوئے دیں کیلئے یہ لوگ مار آستیں دشمنوں کو خوش کیا؛ اور ہوگیا آزر وہ یار پیشہ ہے رونا ہمارا پیش رب ذوالیمین یہ شجر آخر کبھی اس نہر سے لائیں گے بار رہ رہ کے آتا ہے تعجب قوم سے کیوں نہیں وہ دیکھتے؛ جو ہو رہا ہے آشکار ۱۹ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ پر پر مجھے