بیت بازی — Page 451
451 در ثمین تو یک قطره داری زعقل و خرد مگر قدرتش بحرِ بے حد وعدّ تو خود کر پرورش؛ اے میرے اخوند کلام محمود تیرا در چھوڑ کر کہاں جائیں تجھ وہ تیرے ہیں؛ ہماری عمر تا چند کس سے جاکر طلب کریں امداد ہے فرض نصرت اسلام تجھے واجب ہے دعوت و ارشاد تھی موت وہ ذلت کی شہادت کیسی کیا جن پر پڑے قہر خُدا ہیں وہ شہید؟ 'ج' سے 'د' 'ج' سے شروع ہو کر ادا پر ختم ہونے والے اشعار ) تعداد گل اشعار در عدن 3 1 له 2 کلام محمود == جواں مردے ز مردان مـحـمـد در عدن کلام محمود جو بھی ہے؛ دشمن صداقت ہے جھوٹ نے خوب سر نکالا ہے غلامی از غلامان محمد دینِ حق سے ہے اس کو بُغض و عناد ہے صداقت کی ہل گئی بنیاد