بیت بازی — Page 401
401 در ثمین سے تو نانگ ہوا کامیاب اسی فکر میں رہتے ہیں روز و شب در عدن اسی منور ہو کہ دل سے تھا قربان عالی جناب که راضی وہ دلدار ہوتا ہے کب؟ سینہ تمہارا کرے دل میں گھر نور قرآن طیب الہی! یہی نور چھا جائے اتنا کہ بن جائے شمع شبستان طيب اسی راسته ہے میں آسان طیب سب یہی راہ چلو میری پیاری! پر اطاعت کروں دور ہوں یا قریب کہیں مجھے بادب با نصیب کلام طاهر آہ و بقا پر پہرے ہیں دل میں فغاں ہے بند اے رات! آبھی جا؟ کہ رہا ہوں طیورشب امشب نہ تو نے چہرہ دکھایا؟ تو کیا عجب صبح کا منہ نہ دیکھے دل ناصبور شب اس لمحہ تیرے رشک سے شبنم تھی آب آب مٹی میں مل رہا تھا؛ پگھل کر غرورِ شب اس کے ہی غم سے تو آج آنکھیں ہوئی ہیں پر آب ذکر سے جس کے کھل اُٹھتے تھے کبھی دل کے گلاب و کلام محمود بھی آپ کی درگہ سے گر پھرا خالی تو پھر جو دشمن جاں ہیں؛ وہ منہ لگائیں گے کب اپنے پیچھے چھوڑے جاتے ہیں یہ اک حصن حصیں بھاگے جاتے ہیں یہ احمق ؛ کیوں بھلا سُوئے حُباب امر بالمعروف کا بیڑا اُٹھاتے ہیں جو لوگ اُن کو دینا چاہتے ہیں؟ ہر طرح کا یہ عذاب ابن ابراهیم آئے تھے جہاں باتشنہ لب کردیا خشکی کو تو نے اُن کی خاطر آب آب اک رُخ روشن سدا رہتا ہے آنکھوں کے تکے ہیں نظر آتے مجھے تاریک ماه و آفتاب اس قدر بھی بے رخی اچھی نہیں عشاق سے ہاں بھی تو اپنا چہرہ کیجئے گا بے نقاب ابنِ ابراہیم بھی ہوں؛ اور تشنہ لب بھی ہوں اسلئے جاتا ہوں میں؟ مکہ کو بامید آب ۱۱ ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۵ ۶ ۷ Δ ۹ 1۔