بیت بازی

by Other Authors

Page 390 of 871

بیت بازی — Page 390

390 ۱۰ 11 ۱۲ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۰ M ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۶ نوک خامہ سے سلجھتی گتھیاں دیکھا کئے خوب تار و پود ؟ و پود بگڑا؛ دجل کی سرکار کا کلام طاهر نخوت کو ایثار میں بدلا؛ ہر نفرت کو پیار میں بدلا عاشق، جان نثار میں بدلا؛ پیاسا تھا جو خارلہو کا ناحق ہم مجبوروں کو ؛ اک تہمت دی جلا دی کی قتل کے آپ ارادے باندھے ، ہم کو عبث بدنام کیا نرگسی چشم نیم باز اُس کی باز اُس کی چمن دل چمن دل کھلا کھلا کھلا سا تھا نبیوں کا امام آیا؟ اللہ امام اس کا سب تختوں سے اونچا ہے؛ تخت عالی مقام اس کا کلام محمود نائب خیر الرسل ہوکر کرے گا کام یہ وارث تخت محمد میرزا ہو جائے گا نقش پا پر جو محمد کے چلے گا؛ ایک دن پیروی سے اُس کی؛ محبوب خُدا ہو جائے گا نظر آتے تھے میرے حال پر وہ بھی پریشاں سے یہ میرا خواب تو ؟ خواب پریشاں ہو نہیں سکتا نظروں سے اپنی تم نہ گراتے؛ تو خُوب تھا پہلے ہی ہم کو منہ نہ لگاتے؛ تو خُوب تھا نفس کو بھولنا چاہا پہ پھیلایا نہ گیا جان جاتی رہی؟ پر اپنا پرایا نہ گیا ہے اس ظالم نے کچھ ایسا ستایا ناز فُرقت میں جل رہا تھا میں گو پس پرده اک ظہور بھی تھا نہیں آرام پل بھر بھی میتر ہے باپ اُس کا؛ نہ ہے کوئی بیٹا رہے ہمیشہ سے ہے؛ اور ہمیشہ نغمہ ہائے چمن ہوئے خاموش کیا ہوا؟ کس طرف ہزار گیا دے نَزَلَتْ مَلَئِكَةُ السَّمَاءِ لِنَصْرِهِ قَدْ فَاقَتِ الْأَرْضُ سمـى بِظُلُوْمِهَا ۲۵ نعمت وصل بے سوال ہی اپنے عاشق کو بے حیا نہ بنا ناصح وہ اعتراض تیرے کیا ہوئے بتا! یکتا کے پیار نے مجھے یکتا نہ کر دیا؟ نیزہ دشمن ترے سینہ میں پیوستہ نہ ہو اُس کے دل کے یار ہو سوفار تیرے تیر کا نکلا تھا میں ؟ کہ بوجھ اُٹھاؤں گا اُن کا میں لیکن اُنھوں نے گود میں مجھ کو اُٹھالیا ناراضگی سے آپ کی آئی ہے لب پہ جاں اب تھوک دیجے غُصہ بہت کچھ ستالیا ۲۷ ۲۸ ۲۹