بدرگاہ ذیشانؐ

by Other Authors

Page 51 of 148

بدرگاہ ذیشانؐ — Page 51

51 ساکنان جناں تھے لطف اندوز سب ملائک میں شادیانے تھے ہو گیا نور حق کا جلوہ فکن یعنی شمس الضحی گلشن ہوا پیدا دہر میں بہار آئی آگ دوزخ کی سر تھی اُس روز زبانوں پہ یہ ترانے تھے ہوئیں فاراں کی چوٹیاں روشن اور بدر الرجی ہوا پیدا رحمت رب کردگار آئی آسماں اور زمین تھے شاداں ہوا دنیا پر فضل ربّ جہاں ہو گیا آمنہ کا روشن گھر تھے فدا صبح و شام شمس و قمر آیا دنیا میں جبکہ اس کا وجود سب فرشتوں کی تھا زباں پر درود مرحبا مرحبا کا تھا نعرہ کہ سراپائے نور حق آیا ہیں اپریل پیر کا دن تھا عیسوی پانچ سو اکہتر تھی وصف میں اسکے جسکا وقت ہو صرف آیا دنیا میں نورِ رَبِّ عُلا ہو گئی شان حق کی جلوہ گری حوصلہ اُس کا اور اس کا ظرف جو بھی لکھے رسول کی تعریف اس سے بڑھکر ہے کونسی توصیف نعت گوئی کا ماحصل ہے یہی نام جب بھی سنو محمد کا !! کہ ہو حاصل خدا کی خوشنودی تو پڑھو بے حساب صلِ علیٰ ہے یہی ایک بس خلاصہ نعت چاہتے ہو اگر وثیقہ نعت ( مثنوی ذوقی )