بدرگاہ ذیشانؐ — Page 48
48 محمد کو خدا نے رتبہ لولاک بخشا اور فرمایا سما سکتا نہیں نور محمد ایک عالم میں تیری خاطر کیا ہے یہ فلک پیدا زمیں پیدا اسی کے واسطے حق نے کئے دُنیا و دیں پیدا محمد باعث ایجاد و مقصود دو عالم ہیں اندھیرا رہتا ہر آں آسماں والوں کی محفل میں نہ ہوتے آپ تو کچھ بھی نہیں ہوتا کہیں پیدا خدا کرتا نہ گر حضرت کا نور اولیں پیدا فلک پر کرتیں کب جگمگ ستاروں کی یہ قندیلیں نہ ہوتا سرور عالم کا گر عکس جبیں پیدا نہ سورج چاند ہوتے اور نہ زہرہ مشتری ہوتے اگر ہوتا نہ یہ خورشید رَبُّ العالمیں نہ ہوتے یہ ملائک اور نہ یہ جن و بشر ہوتے زمیں پر لالہ وگل اور نہ نسریں نسترن ہوتے کہاں سے ہوتی ٹھنڈک دید کی آنکھوں میں نرگس کی پیدا نہ ہوتے آپ تو ہوتے نہ جبریل امین پیدا نہ ہوتے سنبل وریحاں نہ ہوتی یا کمیں پیدا اگر ہوتے نہ یہ دیدہ ور دنیا و دیں پیدا