بدرگاہ ذیشانؐ — Page 44
44 حضرت قاضی ظہور الدین اکمل ورد مرا ہے رات دن صَلّ على محمد صَلِّ عَلَى محمدٍ صَلِّ عَلَى محمدٍ لاکھ مصیبتیں پڑیں سینکڑوں مشکلیں پڑیں دل رہے اس سے مطمئن صَلِّ عَلى محمدٍ کیوں نہ کہیں یہ خلصیں کیوں نہ پڑھیں یہ مومنین تو ہے امین و موتمن صَلِّ عَلَى محمدٍ ہند و عرب میں شوق سے پڑھتے ہیں اُٹھتے بیٹھتے تیرے جواں تیرے من صَلِّ عَلَى محمدٍ شان بڑھے نبی کی کیا کہتے ہیں جب لکھوکھا وحش وطيور وانس وجن صَلِّ عَلَى محمدٍ جو ہے ہمارا شہر یار۔اُسکے کرم ہیں بیشمار تو بھی نہ انگلیوں پر کن صَلِّ عَلی محمد ہم میں مسیح پاک تھا جس کا عدد ہلاک تھا ہائے وہ راتیں اور وہ دن صَلِّ عَلی محمد اکمل جاں نثار کی بات یہ ہے ہزار کی حق سے کر یگا مقترن صَلّ على محمد تیرے صدقے تیرے قربان مدینے والے مری اولاد مری جان مدینے والے دین و دنیا کے سب انعام ہمیں دلوائے کس قدر ہیں تیرے احسان مدینے والے تیری تعلیم نے مذہب کی حقیقت کھولی تو نے بخشا ہمیں عرفان مدینے والے تو نے روحانی و جسمانی ترقی کے لئے کر دیئے ہیں سبھی سامان مدینے والے تو ہی دنیا میں ہے اک کامل و اکمل انسان تجھ پہ نازل ہوا قرآن مدینے والے کفر و اسلام میں تھی جنگ نتیجہ یہ ہوا حق نے بخشا تجھے فرقان مدینے والے