بدرگاہ ذیشانؐ — Page 100
100 مبشر احمد طاہر آپ محبوب حق ہیں حبیب خدا آپ شمس و قمر آپ نور الہدی آپ کے دم سے روشن ہیں کون و مکاں آپ سے ابتداء آپ سے انتہا پ ہی مربع خاص بھی عام بھی آپ سے فیض پاتا ہے چھوٹا بڑا آپ کے دم قدم سے بہار جناں آپ کے دم قدم سے فضا پرفضا قَابَ قوسین اور سدرة امتہی آپ کی منزلیں آپ کی رفعتیں آپ کی ذات نور علی نور ہے آپ کی ذات ہے بعد ذاتِ خدا آپ آقا مرے، میں غلام آپ کا ہر بنِ مو سے طاہر کے آئے صدا ظفر احمد ظفر آؤ درود پڑھ کے کریں اس نبی کی بات ہے جس کی ذات باعث تخلیق کائنات جس کی ضیا سے چھٹ گئیں تاریکیاں تمام روئے زمیں پہ چھا گئیں جس کی تجلیات انساں بھٹک رہا تھا کوئی رہبر نہ تھا چھائی ہوئی تھی جہل کی کالی سیاہ رات اکراه و جبر و جور کا دنیا میں دور تھا تھا بے بسوں یہ تنگ ہوا عرصہ حیات اہلِ جہاں تھے حق و صداقت سے بے خبر ہر شخص تھا اسیر طلسم تو ہمات تھا مال و زر ہی باعث اکرام و افتخار سنتا نہ تھا غریب کی کوئی جہاں میں بات