ایک بابرکت انسان کی سرگزشت

by Other Authors

Page 88 of 100

ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 88

88 تم نے ان کو ایسا عقیدہ اپنانے سے منع کیوں نہ کیا؟ میں نے تو انہیں اس کے سوا کچھ نہیں کہا جو تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اور میں ان پر نگران تھا جب تک میں ان میں رہا۔پس جب تو نے مجھے وفات دے دی فقط %1 66 ایک تو ہی ان پر نگران رہا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔“ (سورۃ مائده: 118) مندرجہ بالا آیت کی تفسیر بیان فرماتے ہوئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن کچھ لوگ گرفتار ہوں گے تو میں کہوں گا۔یہ تو میرے دوست ہیں۔مجھے جواب دیا جائے گا۔بیشک اے نبی تو نہیں جانتا کہ تیرے بعد انہوں نے کیا بدعات اختیار کیں یقیناً یہ لوگ جب تو ان سے جدا ہوا اپنی اپنی ایڑیوں پر واپس پھر گئے تھے یعنی مرتد ہو گئے تھے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔” میں اس وقت تک ہی نگران تھا جب تک ان میں موجود تھا پس جب تو نے مجھے وفات دے دی تو ان کا تُو ہی نگران تھا۔(صحیح البخاري الجز الثانی کتاب التفسير ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔” تم کیسے خوش بخت ہو گے جب ابنِ مریم تم میں نازل ہو گا اور وہ تم 1 اس آیت کریمہ میں عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا صراحتاً ذکر ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جب تک حضرت عیسی علیہ السلام زندہ رہے ان کی اپنی قوم میں شرک نہیں پھیلا۔جب آپ فلسطین ہجرت کر گئے تو سینٹ پال Sainat Paul نے یونانیوں کو جو بنی اسرائیل نہیں تھے گمراہ کیا اور انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو معبود بنا لیا