ایک عزیز کے نام خط — Page 141
جوں جوں ان کے نقص یا بیماری کی اصلاح ہوتی جاتی ہے ان کی تکلیف کم ہوتی جاتی ہے۔اور جب وہ پوری صحت کو پہنچ جاتے ہیں تو وہی حالات اور کیفیات ان کے لئے بھی خوشی اور سرور کا باعث بن جاتے ہیں۔اس کیفیت کو ذہن نشین کرنے کے لئے یوں مثال پیش کی جاسکتی ہے کہ اگر ایک شخص کی آنکھ میں کوئی نقص ہو جس سے اس کی آنکھ دُکھنے آگئی ہو تو سورج کی روشنی اس کے لئے سخت دُکھ اور تکلیف کا باعث ہوتی ہے اور اسے کچھ عرصہ اندھیرے میں رہنا پڑتا ہے اور وہ سورج کی روشنی سے فائدہ حاصل کرنے یا حظ اٹھانے کے قابل اس وقت ہوتا ہے جب اس کی آنکھ کی پوری اصلاح ہو جائے اور ایسی حالت میں اس کے لئے سب سے زیادہ تکلیف اور عذاب یہی ہے کہ اُسے روشنی میں بسر کرنا پڑے۔اس کے مقابلہ میں وہ شخص جس کی آنکھ صحت کی حالت میں ہو اور جس کی بینائی اپنی پوری طاقت رکھتی ہو وہ سورج کی روشنی سے خوب فائدہ اٹھاتا ہے اور خوبصورت منظر دیکھ کر خوش ہوتا ہے اور اسے چلنے پھرنے میں آسانی ہوتی ہے اور وہ لکھ پڑھ سکتا ہے۔غرض وہ اپنا تمام کاروبار سہولت سے کر سکتا ہے اور کئی قسم کی راحتیں اور آرام اسے روشنی کی وجہ سے حاصل ہوتے ہیں اور روشنی سے محروم کر دیا جانا اس کے لئے عذاب ہو جاتا ہے۔حالانکہ یہ وہی روشنی ہے جو اس دوسرے شخص کے لئے دکھ اور تکلیف کا موجب ہے۔اور یہی حال باقی قویٰ کا بھی ہے۔مثلاً ایک شخص کی زبان پر زخم ہو گیا ہو اور اسے نمک مرچ اور مصالحہ کے ساتھ تیار کئے ہوئے عمدہ عمدہ کھانے کھلائے جائیں تو وہ اس کے لئے سخت دُکھ کا موجب ہونگے اور اس سخت دکھ کی حالت میں وہ پکار پکار کر التجا کرے گا کہ یہ عذاب مجھ سے دُور کیا جائے حالانکہ ایک شخص جس کی زبان اپنی پوری صحت کی حالت میں ہو وہ ان کھانوں کو بڑے مزے سے کھائیگا اور ان سے لذت حاصل کر یگا اور انہیں ایک نعمت سمجھے گا۔البتہ بیمار شخص کی زبان جوں جوں صحتیاب ہوتی جائیگی ایسے کھانے اس کے لئے کم تکلیف کا موجب ہونگے اور پوری صحت حاصل ہو جانے پر وہ بھی انہیں لذیذ محسوس کرنے لگے گا۔141