حضرت عزیزہ بیگمؓ ، حضرت زینب بی بیؓ — Page 19
حضرت زینب بی بی 7 کہا ہمیں کسی نے پڑھایا ہی نہیں تو میں کیا بتاؤں۔حضرت صاحب نے ہنس کر فرمایا کہ آپ نے بتا تو دیا ہے اور پھر بھی آپ شکایت کرتی ہیں کہ کسی نے پڑھایا نہیں مطلب حضرت صاحب کا یہ تھا کہ پڑھایا نہیں۔کے الفاظ میں جو پڑھا کا لفظ ہے اس میں قافیہ آگیا ہے چنانچہ آپ نے اس وقت ایک شعر میں اس قافیہ کو استعمال کر لیا۔(6) گویا بھولپن میں ہی کہی ہوئی بات کو خدا کے نبی علیہ السلام نے پسند فرمایا، حضرت سید ہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں۔میں چھوٹی سی تھی بھائی پیار کرتے ، ہر کہنا مانتے ، ادھر حضرت اماں جان کا پیارا اور سب سے بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ناز برداری اور بے حد خیال رکھنا۔میرا مزاج خراب تھا، ایک ساتھ کھیلنے والی بچی نے کہنا نہ مانا، اس سے روٹھ گئی اور چھوٹے بھائی حضرت مرزا شریف احمد صاحب جو ساتھ کھیل رہے تھے میں نے ان سے کہا اس سے تم بالکل نہ بولنا میں اس سے نہیں بولتی۔چھوٹے بھائی صاحب بھول کر اس سے بول پڑے میں نے ایک چیخ ماری پنجنی کھائی ، صدمہ ہوا اور سانس رُک گیا۔حضرت اماں جان بھاگ کر آئیں گود میں اٹھا کر لائیں دیکھا پوچھا کیا ہوا وغیرہ میں نے روتے ہوئے واقعہ بیان کیا اور پھر رونے لگی۔