عظیم زندگی — Page 77
بچوں کی شرارتوں اور اودھم کے باوجود آپ کے منہ پر کبھی سخت کلمہ نہ آیا۔آپ جب کبھی اہم تصنیف میں مصروف ہوتے تو آپ نے بچوں کو کبھی نہ ڈانٹا۔ایک دفعہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے آپ سے دریافت فرمایا کہ آپ اتنے شوروگل میں کیسے سوچتے اور کام کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا " میرے گردوپیش جو ہو رہا ہوتا ہے میں اس کی طرف توجہ ہی نہیں دیتا اس لئے کی مخل نہیں ہوتا " حضرت مولوی صاحب نے یہ بات بھی حضور رہی کے متعلق بیان کی ہے " میرے حضور کے ساتھ اتنے پرانے اور قریبی تعلقات کے دوران میں نے آپ کو کسی کے ساتھ خفا ہوتے یا باز پرس کرتے نہیں دیکھا " حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ساری زندگی جنتی روشنی سے پُر نور تھی اور یہی روشنی اُن لوگوں کے چہرہ کو روشنی دے گی جو آپ جیسا بننا پسند کریں گے لیکن یہ روشنی مدھم رہے گی جب تک چوڑ چپڑ ائین ان کی ساری زندگی پر حاوی رہے گا طمانیت کے ہر خواہشمند راہرو کو اس سے آگاہ رہنا چاہیے اور اس پر قابو پانا چاہیے۔جد و جہد نخواہ کتنی بھی سخت ہو اس کا انعام انمول ہے۔بدکار، بدطینت ، شرابی انسان بھی خدا کے نیک بندے بن گئے۔زندگی بھر سگریٹ نوشی کرنے والوں نے تمباکو نوشی چھوڑ دی۔جاہل اولیاء اللہ بن گئے لہذا چڑ چڑے پن کے لئے گذر تلاش کرنے کی کوئی وجہ نہیں اس پر قابو پایا جاسکتا ہے بشرطیکہ انسان خلوص دل سے کوشش کرے اور خدا تعالے کی طرف رجوع کرہے جہاں ملزم ہوگا وہاں اُمید کار استہ نکل ہی آئے گا۔تمام کام عقل کے دائرہ کے اندر ممکن ہیں۔مثبت سوچ انقلابی قوت ہے جو دعا کے ساتھ مل کر زبردست طاقت بن جاتی ہے۔ایک روحانی راہرو کا فائدہ اسی میں ہے کہ وہ چڑ چڑے پن سے بچے اور اس پر