اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page v of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page v

اظہار تشکر الحمد لله ذو المنن رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَ عَلَى وَالِدَيَّ أَنْ أَعْمَلَ صَالِحاً تَرْضَهُ وَ اَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّلِحِينَ خاکسار کو تفسیر القرآن میں تخصص کے دوران مستشرقین کے حفاظت قرآن کے موضوع پر اعتراضات کے جواب کے موضوع پر مقالہ لکھنے کا کام تفویض ہوا تھا۔مقالہ نگران مکرم و محترم جناب چوہدری محمد علی صاحب تھے جن کے سایہ شفقت میں اور دعاؤں سے تمام مراحل آسان ثابت ہوئے۔اسی مقالہ کو نظر ثانی اور بہت سی تبدیلیوں اور اصلاحات کے بعد کتابی صورت میں پیش کرنے کی توفیق پا رہا ہوں۔خاکسار مکرم و محترم حضرت صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب مد ظلہ العالی کی ہمہ وقت اور شفقت سے بھر پورراہنمائی پر ہر وقت اُن کا ممنونِ احسان ہے۔اسی طرح خاکسار مکرم و محترم جناب سید عبدالحی شاہ صاحب ناظر اشاعت ربوہ کا بھی تہہ دل سے مشکور ہے جو ہمیشہ اپنی گوں ناگوں مصروفیات کے باوجود ہمیشہ خاکسار کی وقت بے وقت حاضری کو فراخدلی سے معاف فرماتے ہیں۔آپ نے اپنے انتہائی قیمتی اوقات سے میں سے ناچیز کی اس حقیر سی کوشش کو بھی وقت دیا اور مطالعہ کر کے شائع کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔میرے مشفق استاد مکرم ومحترم جناب خواجہ ایاز احمد صاحب کی راہنمائی ہمیشہ شاملِ حال رہی۔مقالہ لکھنے کے دوران جب ضرورت پڑی خاکسار نے اُن کی شفقت کی وجہ سے بلا جھجک اُن سے راہنمائی حاصل کی۔خاکسار خاص طور پر محترم محمد مقصود احمد منیب صاحب مربی سلسلہ کا ہمیشہ ممنونِ احسان رہے گا جنہوں نے بھر پور توجہ اور محنت سے نظر ثانی کی اور لغوی اعتبار سے بہت سی مفید اصلاحات کیں۔جزاہ اللہ خیراً مکرم ظہور الہی تو قیر صاحب مربی سلسلہ اور مکرم را شد محمود احمد صاحب مربی سلسلہ کی بے لوث مدد پر خاکسار ان دونوں احباب کا تہہ دل سے ممنون ہے۔خاکسار محترم نصیر احمد قمر صاحب مربی سلسلہ ایڈیشنل وکیل الاشاعت لنڈن وایڈیٹر الفضل انٹرنیشنل کا تہہ دل سے مشکور ہے جن کی پر خلوص اور بے لوث مدد اور رہنمائی سے آخری مراحل بھی طے ہوئے۔میرے مولی کا کتنا بڑا فضل ہے کہ اس کے پاک مسیح کی پیاری جماعت کا ہر وہ فرد جس کی جب بھی ضرورت پڑی میرے جیسے کمزور اور حقیر انسان کی امداد کو موجود تھا۔میرے مولیٰ تو ان سب احباب کو بہترین جزاء دے۔ان سب نے محض تیری رضا کی خاطر ایک نا چیز حقیر اور کمزور انسان کی بے لوث امداد اور رہنمائی کی۔تو بھی ان کا مددگار اور راہنما ہو جا۔اورسب سے بڑھ کر اندھی عقلوں کو انوار الہی سے منور کرنے والی وہ آسمانی ہدایت اور راہنمائی ہے جو آج کے دور میں مہدی دوران اور اُن کے خلفاء کی صورت میں ہمیں فیضیاب کر رہی ہے۔کس طرح تیرا کروں اے ذوالمنن شکر و سپاس وہ زباں لاؤں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار