اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 347 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 347

is the mushaf of Muhammad۔347 حفاظت قرآن کریم پر متفرق اعتراضات (John Burton, The Collection of the Qur'an, Cambridge: Cambridge University Press, 1977, p۔239-40) ہم تک پہنچنے والا متن بعینہ وہی ہے جو خود نبی کریم ﷺ ) کا مرتبہ اور مصدقہ ہے۔چنانچہ آج ہمارے پاس جو کتاب ہے یہ دراصل مصحف محمدی ہی ہے۔یکھنی ممتاز مستشرق Kenneth Cragg حفظ قرآن پر بحث کرتے ہوئے بھتی ہے ہیں: This phenomenon of Qur'anic recital means that the text has traversed the centuries in an unbroken living sequence of devotion۔It cannot, therefore, be handled as an antiquarian thing, nor as a historical document out of a distant past۔The fact of hifz (Qur'anic memorization) has made the Qur'an a present possession through all the lapse of Muslim time and given it a human currency in every generation, never allowing its relegation to a bare authority for reference alone۔(Kenneth Cragg, The Mind of the Qur'an, London: George Allen & Unwin, 1973, p۔26) قرآن کریم کے حفظ کا اعجاز یہ ہے کہ متن قرآنِ کریم صدیوں کا سفر طے کرتے ہوئے انتہائی محبت اور خلوص اور وقف کی روح کے ساتھ ایک تو اتر کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے۔لہذا اس کے ساتھ نہ تو کسی قدیم چیز جیسا سلوک روا رکھنا چاہیے اور نہ ہی اسے محض تاریخی دستاویز سمجھنا درست ہے۔در حقیقت حفظ کی خوبی نے اس کتاب کو مسلم تاریخ کے مختلف ادوار میں زندہ و جاوید رکھا ہے اور بنی نوع کے ہاتھ میں نسلاً بعد نسل ایک معتبر متاع تھا دی اور کبھی بھی محض غیر اہم کتابی صورت میں نہیں چھوڑا۔Schwally اپنی تحقیق ، جس میں تعصب نمایاں طور پر جھلکتا ہے بیان کرتے ہوئے بمشکل تسلیم کرتا ہے: "As far as the various pieces of revelation are concerned, we may be confident, we may be confident that their text has been generally transmitted exactly as it was found in the Prophet's legacy" (Schwally, Geschichte des Qorans, Leipzig: Dieterich'sche Verlagsbuchhandlung,1909-38, Vol۔2, p۔120) جہاں تک ( قرآنی ) وحی کے مختلف حصوں کا تعلق ہے، ہمیں یہ اعتبار کر لینے میں کوئی حرج نہیں کہ ان کا متن بالعموم ہم تک اُسی حالت میں پہنچا ہے جیسے نبی کریم ﷺ ) چھوڑ گئے تھے۔ویلیئم میور کہتا ہے: "There is probably no other book in the world which has